Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۴
دل میں نفرت نہ ہو امجد احمد، سی پی ایس (رائچور)، کرناٹک ایک حدیث رسول ہے، جس کے راوی صحابی رسول انس بن مالک ہیں۔ اس کا مفہوم اس طرح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بیٹے میری ایک عظیم سنت ہے۔ جو میری اس سنت سے پیار کرے گا وہ مجھ سے پیار کرے گا جو مجھ سے پیار کرے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ حضرت انس نے عرض کیا خدا کے رسول وہ کیا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا، میرے بیٹے سن، کسی سے نفرت نہ کرنا، کسی سے بغض نہ رکھنا، کسی کا کھوٹ دل میں نہ رکھنا۔ یہ میری وہ عظیم سنت ہے جو اس سے پیار کرے گا وہ مجھ سے پیار کرے گا اور جو مجھ سے پیار کرے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ میری ذاتی رائے ہے کہ اس حدیث رسول کا مصداق میں نے مولانا کو پایا ہے۔ مولانا کے لٹریچر کا مطالعہ اور شخصی ملاقاتوں نے میرے یقین کو اور بڑھادیا۔ مولانا کے قول اور فعل میں کوئی تضاد میں نے نہیں پایا۔
مولانا کے ساتھ مسلسل ربط نے میرے ذہنی شاکلے کو بدل دیا۔ آج میں ایک بدلا ہوا انسان ہوں۔ بقول مولانا دعوت ایکٹوزم (dawah activism) ہمارے لیے ماسٹر اسٹروک (master stroke) اور شاہ کلید ہے اور اس کام کو کرنے کی لازمی شرط جو ہم کو ادا کرنی ہے، وہ یہی ہے کہ ہمارے اندر سارے انسانوں سے محبت اور خیر خواہی ہو کسی سے ذرہ برابر بھی دل میں نفرت نہ ہو ۔ مولانا سے سب سے بڑی بات جو میں نے سیکھی وہ یہی ہے اور یہی میری زندگی کا حاصل و نچوڑ ہے۔
مولانا کے مسلسل مطالعہ سے میں یقین کے درجہ میں اس بات کو سمجھ گیا ہوں کہ اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز نفرت سے خالی ہونا، اور دعوت ایکٹوزم کو اختیار کرنا ہے۔ مولانا کا یہ مشن عموماً سارے مسلمانوں اور خصوصی سی پی ایس کے ساتھیوں کے لیے گویا ایک ریمائنڈر کال (reminder call) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues