Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۵
میں نے مولانامحیدالدین خاں سے کیا سیکھا مظہر جمیل رشیدی، ممبئی میرا مولانامحیدالدین خاں سے غائبانہ تعارف ان کی کتاب"مذہب اور جدید چیلنج" کے ذریعہ ہوا تھا (بعد میں دو مرتبہ مجھے مولانا سے براہ راست ملاقات کا موقع بھی ملا)۔ شعوری طور پر وجودِ خدا کو ماننے میں مجھے تردد تھا۔ اس لیے نہیں کہ خدا کے انکار کے لیے میرے پاس کوئی اہم دلیل تھی۔ اس کی بنیادی وجہ مذہبی لوگوں کا رویہ اور کردار تھا۔ مذہب اور جدید چیلنج کو پڑھنے کے بعد شعوری طور پر میں خدا کا معترف ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی مزید کتابیں پڑھیں۔
"کاروان ملت" پڑھنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مسلمان اور اسلام میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ کاروان ملت میں مولانا نے بتایا کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کی روشنی میں۔ خدا سے بغاوت کرنے کی دواہم وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک خدا کی ملحدانہ تعبیر اور دوسری مذہبی افراد کا کردار۔ مذہب اور جدید چیلنج پہلی وجہ کا علمی تجزیہ ہے۔ اور "کاروان ملت" دوسری وجہ کا تحقیقی مطالعہ۔ اس کے علاوہ میں نے مولانا سے جانا کہ مسلمان داعی ہیں اور غیر مسلم مدعو۔ یہی وہ معیار ہے جس پر مسلمانوں کی دنیاوی اور اخروی کامیابیوں کا انحصار ہے۔
مگر مسلمانوں نے اپنی اس ذمہ داری کو عملاً فراموش کردیا۔ اور اپنے مسائل کی تلافی کے لیے انھوں نے مختلف قسم کے لائحہ عمل تیار کئے ۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو ہر لائحہ عمل نے مسلم مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو مزید نئے مسائل میں مبتلا کردیا۔ اور اس کی بنیادی وجہ تشخیص کی غلطی تھی۔ مولانا نے اپنی کتاب "راز حیات" میں ایک مضمون بعنوان " بڑا کام" کے تحت ولیم بلیک (William Blake) کے درج ذیل اقتباس کو نقل کیا ہے:
Great things are done when men and mountains meet. This is not done by jostling in the street. عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں۔ کوئی عظیم کام سڑک پر دھکم دھکا کرنے سے نہیں ہوتا۔ (ص 194)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues