Al-Risala · August 2021 · page 126

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۶

مسلمانوں نے مختلف طریقوں سے اس ’’دکھم دھکا‘‘ پر پوری طاقت لگا کر عمل کیا ہے۔ مگر انھوں نے کبھی اپنے آپ کو وہ انسان نہیں بنایا جو پہاڑوں کو فتح کرنے کے لیے درکار ہے۔ پہاڑ پر اپنا جھنڈا لہرانے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور ہمت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اقوام عالم کے دلوں میں اسلامی جھنڈا لہرانے کے لیے داعی الی اللہ والی صفات محبت، صبر، اور قربانی کی ضرورت ہے۔ جسمانی قربانی نہیں بلکہ جذبات، انتقام، منفی احساسات، دوسروں کی ہدایت کے لیے مادی حقوق کو قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ (ظہورِ اسلام ص 297)

مولانا نے اپنا پورا مشن ہی اسی ذمہ داری کا احساس دلانا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس کو دوسرے لفظوں میں احیاء اسلام کا مشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ باقی مولانا کا تمام کنٹریبیوشن اسی احیاءِ اسلام کے ارد گرد گھومتا ہے۔ مولانا نے مسلمانوں سے متعلق جو باتیں محسوس کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان ابھی شاعرانہ دور میں جی رہے ہیں۔ ان کی تحریروں اور تقریروں میں حقیقت پسندی سے زیادہ شاعرانہ رنگ غالب ہے۔ شاعری کا دوسرا صحیح نام غیر حقیقت پسندی ہے۔ اس کو مولانا غیر سائنٹفک مزاج کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ (ڈائری 21 جون 1990) میں نے مولانا کی تقریباً تمام کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر دوسرے مصنفین کے برعکس ان کی کتابوں میں شاعری کی کوئی قابلِ ذکر مقدار موجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ شاعری سرے سے ہے ہی نہیں۔ مسلمانوں کو مولانا نے یہ بتانے کی کامیاب کوشش کی کہ وہ شاعری کے بجائے حقیقت پسندی میں جینا سیکھیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ان کو ان خوش قسمت لوگوں میں شامل کر لے جن کو خدا کے پڑوس میں رہنے کا شرف حاصل ہونے والا ہے۔

مولانا صاحب نے اپنا کام پوری دیانتداری سے پورا کر کے دکھا دیا۔ اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ ان کے عظیم مشن کو رہتی دنیا تک جاری رکھیں۔ (خالد سعید، کراچی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page