Al-Risala · August 2021 · page 127

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۷

آہ! اس صدی کا عظیم مفکر محمد نظام الدین قاسمی، نا خدا مسجد زکریا سٹریٹ، کلکتہ وحید الدین خان صاحب بلا مبالغہ اس دور کے بڑے داعی الی اللہ اور اللہ کے ولی تھے۔ آپ نے خدا کے پیغام کو دنیا کی زبان میں پیش کیا ہے، آپ نے انڈیا سے لے کر یورپ وامریکہ تک نان مسلم اسٹیج سے اسلام کی ترجمانی اس انداز سے کی ہے کہ دنیا نے بھی اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا۔ آپ کی دعوت کا طریقہ انتہائی انوکھا تھا۔ نہایت پرسکون انداز میں اہل دنیا کے سامنے خدا کا پیغام ایسے اسلوب میں پیش کرتے تھے جس کو مخاطب آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔ آپ کی تحریر میں جو چاشنی اور مٹھاس ہے اس کا احساس وہی کر سکتا ہے جس نے آپ کی تحریروں کو پڑھا ہے، خصوصاً خدا کی معرفت اور آخرت کا تذکرہ جب آپ کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے جاہ و جلال اور قبر و حشر کو دیکھ رہے ہیں۔ بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ زندہ ہوتے ہوئے بھی موت کی کلفتوں کا حسی طور پر اندازہ کر رہے ہیں۔ آپ کے دعوتی عمل سے جہاں سیکڑوں انسانوں نے خدا کی وحدانیت کا اقرار کر کے مذہب اسلام کو اپنایا وہیں لوگوں کو دنیا جینے کا طریقہ بھی آیا ہے۔ ایک انسان جو خود اپنی زندگی سے بیزار ہو چکا ہو اگروہ آپ کی کتاب رازِ حیات کو پڑھے تو اس کو اپنی زندگی سے تمام شکایتیں دور کر کے آگے کا راستہ طے کرنا آ جائے گا۔ مولانا وحید الدین خان صاحب کے کچھ ایسے افکار تھے جس سے علماء کا ایک طبقہ نالاں رہا ہے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسی رائے ہرگز نہیں ہے جس کی بنیاد پر انہیں مطعون کیا جائے، بلکہ علم و تحقیق کے جس مقام پر وہ فائز تھے ایسے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کریں۔ دراصل ہم علماء کا معاملہ یہ ہے کہ ہم بہت جلد اس سے بدظن ہوجاتے ہیں جس کی رائے ہماری رائے یا ہمارے اکابر یا مسلک کے خلاف ہو۔ کسی کو بذات خود پڑھے، سنے اور اس سے ملے بغیر محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی سے بدظن ہو جانا وہ بیماری ہے جو موجودہ علماء کے اندر بہت زیادہ ہے۔ اس کا اخروی نقصان تو مرنے کے بعد معلوم ہوگا لیکن دنیا میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page