Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۸
ہے کہ آپ علمی اور فکری اعتبار سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔ خود میرا بھی ایک دور گزرا ہے کہ محض سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر مولانا کا بہت بڑا قد تھا، لیکن جب کلکتہ آیا اور چچا محترم حضرت مولا نا شفیق قاسمی صاحب امام و خطیب ناخدا مسجد ، کلکتہ کی خدمت میں رہنے لگا جو مولانا مرحوم کے بڑے مداح اور عقیدت مندوں میں سے ہی نہیں بلکہ ان کے دعوتی مشن کے ایک فرد بھی ہیں۔ اس وقت قریب سے مولانا کی تحریروں کو پڑھنے کا موقع ملا۔ تب میں نے سمجھا کہ یہ شخص موجودہ وقت میں اللہ کا سچا ولی ہے۔ اور پھر درجنوں کتابیں آپ کی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ بڑی تمنا تھی آپ سے ملاقات کی، لیکن شاید خدا کو منظور نہیں تھا۔ مولانا نے ایک لمبی عمر پائی اور حدیثِ رسول کے مصداق ہوئے ــــ خیر الرجال من طال عمرہ و حسن عملہ (لوگوں میں سب سے اچھا وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوں) مسند احمد، حدیث نمبر 1768۔ آپ کی زندگی مذکورہ حدیث کے عین مطابق تھی۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول کر کے آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین ثم آمین (روزنامہ سہارا ایکسپریس، پٹنہ، 23 اپریل 2021)
مولانا سے میں نے آرٹ آف لائف سیکھا ہے، دنیا کے اعتبار سے بھی اور دین کے اعتبار سے بھی۔ مثلاً میں نے مولانا سے یہ سیکھا ہے کہ کیسے منفی تجربات کو مثبت پہلو سے دیکھا جائے۔ یہ 18 اکتوبر 2018 کی بات ہے۔ صبح ساڑھے دس بجے کا ٹائم تھا۔ میں اور ساجد انور صاحب ممبئی سے مولانا سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم لوگ مولانا سے بات چیت کر رہے تھے کہ ایک کشمیری صاحب اسی وقت مولانا کے پاس پہنچے، اور ہماری بات چیت میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا حال بہت برا ہے۔ ان کے بھائیوں نے ان کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے، اور انھیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مولانا صاحب نے ان کی پوری بات خاموشی کے ساتھ سنا۔ جب ان کی بات مکمل ہوگئی تو مولانا نے کہا کہ دیکھیے مصیبت اس لیے نہیں آتی ہے کہ بندہ یہ کہے کہ ’’ہائے مصیبت‘‘، بلکہ مصیبت اس لیے آتی ہے کہ بندہ دعا کرے۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ ایسا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ (ڈاکٹر جنید شیخ، سی پی ایس ممبئی)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues