Al-Risala · August 2021 · page 129

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۹

لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے مولانا انیس ملک ندوی، سورت گجرات خدا کی ذات بہت ہی شفیق اور مہربان ہے وہ ہر دور میں انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان مہیا کرتا ہے۔ پہلے انبیاء کو مبعوث کرتا تھا اب وہ سلسلہ ختم ہو گیا اب جس سے چاہتا ہے اپنے دین کی تجدید کا کام لیتا ہے، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ مولانا وحیدالدین انہی میں سے ایک ہیں۔ مولانا وحیدالدین ایک کمزور بدن انسان لیکن پہاڑ سے بھی زیادہ طاقتور اور اٹل جب معاملہ اصول اور دین حق کی دعوت کا ہو۔

بلاشبہ مولانا وحیدالدین خان اس امت میں اپنے عظیم الشان کام کے سبب اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا علمی کام صرف معلوماتی اضافے کا نام نہیں بلکہ دنیا کو پیش آمدہ بیشتر مسائل کے تدارک کا ذریعہ ہے۔ امت مسلمہ کے اس دور زوال میں جو گرد حقیقی اسلام پر لپٹ چکی تھی اس کی صفائی کا ذریعہ بلاشبہ مولانا خان کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے بنایا۔ آج اس دور میں اگر کوئی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ دین اسلام کا حقیقی مزاج یا اس کی اصل روح کو سمجھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرے ۔ مولانا کی کتابیں اسلام کا حقیقی تعارف پیش کرتی ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب کی کتابوں کا مطالعہ طالب علم کو بہت ساری دوسری کتابوں کے مطالعے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ مولانا کا علمی استدلال ان کو امت میں وہ مقام دلاتا ہے جس پر امت کے چند ہی نام سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں کمال مولانا کا نہیں بلکہ اس عظیم و برتر خدا کا ہے جو اپنا خاص فضل اپنے خاص بندوں پر کرتا ہے وہ ہدایت کو پہنچانے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیتا۔

احمد امین مصری کی کسی کتاب میں میں نے ایک عبارت پڑھی تھی جس کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ جب کبھی بھی اس قوم میں کوئی مصلح یا کوئی جید عالم نمودار ہواتو اس پر کفر اور الحاد کے فتوے داغے گئے حتیٰ کہ اس کی جان کے درپے لوگ ہو گئے مگر جب وہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا تو اس کی موت کے سبب لوگوں کا حسد ٹھنڈا پڑ گیا اور دھیرے دھیرے اس کا اعتراف بڑھتا چلا گیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page