Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۰
موجودہ امت مسلمہ ایک مردہ (زوال یافتہ) قوم ہے۔ زندہ لوگوں کی قدر ان کی نگاہوں میں نہیں جچتی۔ مولانا کا اگر ایک لفظ میں تعارف بیان کیا جائے تو میری رائے میں ’’خیر خواہ‘‘ سے بہتر کوئی اور لفظ نہیں ہوسکتا۔ اور خیر خواہی بھی کسی محدود معنوں میں نہیں بلکہ پوری انسانیت کا احاطہ جس میں پایا جاتا ہو، عام طور پر مسلم علماء کا مقام ان کی ملی اور قومی خدمات ہی متعین کرتی ہے، اور ان کا نام بھی انہی لوگوں میں متعارف مانا جاتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں امت کا درد، قوم کی فلاح جیسے الفاظ ہی پائے جاتے ہیں۔ انسانیت کا درد، اسے درپیش مسائل کا حل، یہ وہ موضوع ہیں جنہیں مسلم علماء یا تو جانتے نہیں یا ضد سے مانتے نہیں۔ جب کہ مولانا کے نزدیک پورے اسلام کا خلاصہ ہی دوا جزائیں بیان کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ہے خدا کو اپنا اصل کنسرن بنانا اور دوسرا ہے تمام انسانوں کی مکمل خیر خواہی۔ مولانا وحید الدین صاحب سے وابستگی کی میری ایک لمبی داستان ہے۔ مختصراً یہاں پر اتنا بیان کرنا چاہتا ہوں کہ طالب علمی کے زمانے میں پوری طرح معاشی تنگی اور دیگر مسائل سے دوچار تھا۔ ذہنی خلفشار میں مبتلا تھا اسی زمانے میں ہمارے ایک ساتھی نے مجھے ’’رازِ حیات‘‘ نامی کتاب کو پڑھنے کے لیے مشورہ دیا۔ یہ کتاب ایک شاہکار کتاب ہے۔ بظاہر اس میں دینی مسائل آپ کو نظر نہیں آئیں گے لیکن درحقیقت دیکھا جائے تو یہ کتاب دنیوی ہو کر بھی دینی مزاج پیدا کرنے میں بے حد مؤثر ہے۔ اپنے اندر سے منفی نفسیات کو مٹانا، حقوق طلبی کے بجائے حقوق شناسی کا مزاج پیدا کرنا، ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر آگے بڑھنا، زندگی کو مقصد اعلیٰ کے لیے استعمال کرنا، حقیقت پسندی کا مزاج اپنے اندر ڈیویلپ کرنا، شکوہ شکایت کرنے کے بجائے اپنے اندر نافعیت پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اس کتاب نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ زندگی کو ایک الگ زاویے سے دیکھنے لگا۔ بہر حال یہ تو مولانا کی صرف ایک کتاب کا اثر تھا جو دھیرے دھیرے مولانا کے رسالے جب بھی ملتے فورا پڑھ ڈلتا۔ مجھے اب بھی یاد ہے غالباً عالیہ ثالثہ کا سال تھا گرمیوں کی چھٹی ہونے والی تھی۔ طلبہ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے میں نے گرمی کی چھٹی وہیں پر گزارنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ کون کون سی کتابیں پڑھنی ہے اس کی لسٹ بنانا باقی تھا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی، جو کہ سلیمانیہ ہاسٹل کی لائبریری کے ذمہ دار تھے۔ ان سے مولانا صاحب کی کتابوں کی بابت معلوم کیا انہوں نے بتایا کہ مولانا کے رسالے اب نہیں آ رہے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ مولانا وحید الدین خان کی مولانا علی میاں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues