Done is Undone
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۵
کے ذریعے عوام کے اندر مقبول ہوگئے ۔ مگر عوامی مقبولیت حاصل کرتے ہی وہ بدل گئے ۔ اب غور کیجیے کہ جو رہنما عوامی مقبولیت کے مقابلے میں با اصول بن کر قائم نہ رہ سکا، وہ اقتدار کے مقابلہ میں کیسے قائم رہے گا ۔
غالباً 1970 میں مجھے تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تاج محل کو دیکھنے سے پہلے تاج محل کے بارے میں بہت سے مضامین پڑھے تھے ۔ ان مضامین میں تاج محل مجھے بہت عظیم محسوس ہوتا تھا۔ مگر جب میں نے تاج محل کو دیکھا تو وہ اس سے بہت کم تھا جو میں نے اپنے ذہن میں سمجھ رکھا تھا۔ یہی حال تمام انسانی مصنوعات کا ہے۔ انسانی ساخت کی کسی چیز کے بارے میں اسے دیکھنے سے پہلے جو میری رائے تھی وہ اس کو دیکھنے کے بعد باقی نہ رہی۔ ہر انسانی چیز دیکھتے ہی اس سے کم نظر آئی، جو دیکھنے سے پہلے محسوس ہوتی تھی۔
مگر فطرت کے مناظر کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ کوئی فطری واقعہ اس سے بہت زیادہ عظیم ہے، جو دیکھنے سے پہلے میں سن کر یا پڑھ کر سمجھ رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فطرت کا ہر واقعہ انتہائی حد تک عظیم اور حسین ہے، انسانی الفاظ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں ہر بولا ہوا لفظ اصل حقیقت سے بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت دیکھنے میں اس سے زیادہ نظر آتی ہے جتنا کہ وہ پڑھنے یا سننے میں محسوس ہو رہی تھی۔
بہت سی باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب کہ آدمی کا دل زندہ ہو اور اس کا شعور بیدار ہو۔ مسلمان موجودہ زمانے میں ایک ایسی قوم بن گئے ہیں، جو دل و دماغ کی زندگی سے محروم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان بہت سی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور بدقسمتی سے جن باتوں کو وہ نہیں سمجھتے وہی وہ باتیں ہیں جو زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مثلاً کبھی نہ کرنے کا نام کرنا ہوتا ہے۔ کبھی بولنا اس کا نام ہوتا ہے کہ آدمی چپ رہے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ زندگی کی سب سے زیادہ گہری حقیقت ہے۔ مگر وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues