Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۲
مینارہ نور ہمایوں مجاہد تارڑ، پاکستان علم و تحقیق کے میدان کا کھلاڑی اپنے خلوص اور جوش جنوں میں غلط ٹرک پر پایا جائے، تب بھی اس کے لیے سندِ قبولیت ہے؛ احترام ہی احترام ہے۔ حق پر ہونے کا آخری فیصلہ اُس بادشاہ کی بارگاہ میں ہونا ہے جس کے حضور مولانا وحید الدین خان اب پیش ہو چکے، اور جس کے ہاں فتویٰ بازی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
ظاہر اً دیکھا جائے تو مولانا مرحوم علم، تحقیق، انسپریشن اور حسن تحریر کا مینارہ نور ہیں۔ آپ کی تعلیمات اور فکر کے بعض پہلوؤں سے ہمیں شدید اختلاف ہو سکتا ہے، مثلاً علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ پر آپ کی تنقید وغیرہ۔ تاہم، ایک ایسا شخص جو اپنے ہاں ایک پورا نظام فکر رکھتا ہو، اپنی سوچ کے حق میں اپنے تئیں علمی و فکری دلائل رکھتا ہو، غیر متشدّد ہو، دھیمے لہجے میں کلام کرے، تو اُس کی ہر بات لائق سماعت و احترام ٹھہرے گی۔
مولانا مرحوم جیسی لیجنڈری انسپائرنگ شخصیت کے حق میں ایک دم سے منفی گوئی والی تلواریں بے نیام کر لینا خود اپنا قدم کم کر لینا ہے۔ اختلافی اُمور برطرف، جو لوگ مولانا مرحوم کو زیادہ نہیں جانتے، اُن کے لیے نصیحت ہے کہ آپ مولانا کی کتاب ’رازِ حیات‘ اُٹھا کر کسی بھی ایک صفحہ کی ریڈنگ کر ڈالیں۔ شرطیہ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یو ووونٹ بی ایبل ٹو ڈراپ دِس بک! ایک سے ڈیڑھ صفحہ طوالت والے 251 مضامین کی حامل یہ اُن کی مقبول ترین کتب میں سے ہے۔ ایسی ہی آپ نے درجن بھر کتابیں لکھی ہیں جو انسان کی نئے سرے سے ٹیوننگ کرتی ہیں، ایک سُست الوجود بندے کو اٹھا کھڑا کرتی، زاویہ نگاہ بدل ڈالتی، گُھپ اندھیرے میں روشن چراغ کا کام دیتی ہیں۔ مثبت فکری، خلوص، علمیت و رجائیت، اور روشنی سے لدی ایک ندیا ہے آپ کی ہرایسی کتاب۔ انسپریشن (ہیومن ڈویلپمنٹ) اور نفسیاتی اصلاح کے موضوع پر آپ کا کام ایسا ہے کہ اس ایک زندگی کے لیے مولانا مرحوم کی دو عدد کتابیں ہی کافی و شافی ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues