Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۳
دھیمے لب و لہجے والا یہ نکتہ داں اُستاد رخصت ہوا۔ اللہ ہمیں اُن کی تحریر سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔ آپ اپنے نوجوان اور جوان بچوں کو انسپیر یشن ریہیومن ڈویلپمنٹ کے موضوع پر خان صاحب مرحوم کی دو تین عدد کتابیں تو ضرور ہی دلا دیں۔ جہلم بک کارنر نے پبلش کر رکھی ہیں۔ قیمت بھی زیادہ نہیں ہے۔ انمول سرمایہ ہے یہ۔ باقی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ "وہ مسائل" اہلِ علم کو نپٹا لینے دیں۔ کیا خیال ہے؟ (بشکریہ ماہنامہ انداز، کراچی)
مولاناحسیدالدین خان ایک نابغہ روزگار شخصیت تھی۔ مولاناحسیدالدین خان وہ شخصیت تھی جس نے میری سوچ کے ٹھہرے پانی میں ہلچل پیدا کی۔ وہ پہلی شخصیت تھی جو میرے سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہوئی۔ مولانا کے افکار و نظریات سے شناسائی سے پہلے ہی میں اگر چہ جستجو کے سفر پر نکل پڑا تھا مگر اس سفر میں فکر کی بنیادیں تبدیل نہیں ہوئی تھیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا تھا کہ میں ایک بندگی سے نکل کر دوسری میں جا رہا تھا۔ مولانا سے تعارف کے بعد میں ان گھٹن زدہ گلی کوچوں سے نکل کر پر فضا وسیع و عریض میدان میں آ گیا۔ جہاں میں ہر چیز کو تعصب کے بغیر دیکھنے کا اہل ہو گیا تھا۔ حتی کہ مولانا کی باتوں کو بھی اسی نظر سے دیکھا۔ یہ تبدیلی بہت بڑی تبدیلی تھی اس سے فکر و تدبر کے دریچے وا ہوئے ۔ (چودھری احسان اللہ، پاکستان) مولانا خدا سے حب شدید اور خوف شدید رکھنے والی عاجز شخصیت تھی اور اس دنیا میں یہ خصوصیات لوگوں کے اندر پیدا کرنے کے لیے جو محنت کی، وہ رہتی دنیا تک ان کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر قائم رہے گی، ان شاء اللہ۔ جو تھوڑا بہت پڑھا وہ ان کو پڑھا اور اس سے خوب حوصلہ ملا اور جو تھوڑا بہت نیک عمل کیا وہ خدا کے اس عظیم بندے کی تذکیر القرآن اور الرسالہ کو پڑھ کر کیا۔ اے اللہ ہم تیرے انتہائی شکر گزار ہیں کہ تو نے اپنے اس عظیم بندے سے ہمیں متعارف کروایا۔ اس نے تیرے تخلیق کے مقصد کو ہم پر آشکار کیا، اس کا صلہ ان کو خوب دینا، بے شک تو بہت خوب صلہ دینا والا ہے۔ (عبد القدیر، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues