Al-Risala · August 2021 · page 134

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۴

رازِ حیات والے باباجی عارف انیس، پاکستان مولانا وحید الدین خان بھی رخصت ہوئے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ذہین آنکھوں اور متجسس سراپے والی دھیمی اور باوقار شخصیت کے مالک وحید الدین خان کو دیکھ کر ارطغرل والے’’ابن عربی‘‘ کا خیال آتا تھا۔ وہ ان دس پہلے لوگوں کی فہرست میں شامل تھے جن سے زندگی بھر بہت کچھ سیکھا۔ جن سے ملنے کی حسرت تھی، مگر ہندوستان نہ جاسکنے کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی۔ میں اگر ہندوستان جاتا تو ترتیب کے اعتبار سے انہیں دیکھنا، تاج محل دیکھنے سے پہلے بنتا تھا۔ وہ امن، آشتی، برداشت، انسانیت، علم اور عظمت کا تاج محل تھے۔ میرے چند ایک جوغیبی استاد اور مرشد تھے وہ ان میں پہلے نمبر پر تھے۔ جم ران، نپولین ہل، وین ڈاییر، سٹیون کووے، جیک کین فیلڈ، برائن ٹریسی، دیپک چوپڑا، ان سب دیونزاد لوگوں کو پڑھنے اور ملنے سے پہلے انہیں پڑھا اور انہیں ان سب سے اوپر ہی پایا۔ پرسنل ڈیویلپمنٹ یا خود کاری پر ان کا لکھا حرف آخر ہے۔ پندرہ برس کی عمر میں ان کی کتاب’’رازِ حیات‘‘ پڑھی جس کا میرے اوپر بہت گہرا اثر ہوا۔ میرے خیال میں پورے عالم اسلام میں اپنی ذات کی تعمیر اور نشوونما پر ان سے بہتر کسی نے نہیں لکھا۔ مگر کمال یہ تھا کہ صرف باتیں ہی نہیں کیں، پوری زندگی انہی اصولوں پر مرتب گزار دی۔ جماعت اسلامی ہند سے سفر کا آغاز کیا مگر پھر بہت آگے نکل گئے وہ اپنی مثال آپ تھے وہ دنیا میں شاید واحد شخص تھے جن سے دلائی لامہ کو بھی جھک کر ملنا پڑا ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ ’’رازِ حیات‘‘ تک پہنچنے کے بعد اسے انسانوں کے درمیان تقسیم کر کے گئے۔

ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انھیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے اُن کے کان میں چپکے سے کہا: میڈم آپ اس وقت روس میں ہیں امریکہ میں نہیں ہیں۔ آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page