Al-Risala · August 2021 · page 136

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۶

فیصلہ کو ظہور میں لانے کے لیے سرگرم ہے، بشرطیکہ آدمی مقررہ وقت تک اس کا انتظار کر سکے۔ " بے شک اپنے بابا جی سچا انتظار کرنے والوں میں سے تھے۔ اعظم گڑھ میں پیدا ہونے والے وحید الدین خان نے 96 سالہ زندگی میں 200 سے زائد کتا بیں تصنیف کیں، الرسالہ نے بلا شبہ لاکھوں قندیلیں روشن کیں۔ گورباچوف ایوارڈ، مدرٹریسا ایوارڈ، ہندوستان کا پدما بھوشن ایوارڈ اور سینکڑوں مزید ایوارڈ ملے۔ وہ اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی میں لکھنے اور بولنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں، خان صاحب نے اپنی پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے کے لیے وقف کر دی تھی اور اپنے آپ کو" تفکیر ی حیوان" (the thinking animal) کہتے تھے۔ یہ نوبل انعام کی بد نصیبی ہے کہ وہ انہیں نہیں ملا۔ وہ اس حال میں اٹھے کہ ہمارے پاس ان جیسا کوئی نہیں رہا۔

ان کی روانگی کا سوچتا ہوں تو آنکھیں نم ہوتی ہیں مگر پھر رشک بھی آتا ہے کہ ڈیوٹی پوری کر گئے بابا جی۔ اور پھر سورہ الفجر کی یہ آیات کانوں میں گونجتی ہیں: یَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِی إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِی (89: 27-30)۔ یعنی، اے اطمینان والی روح، تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش۔ پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا۔ اور میری جنت میں چلی جا۔

سب کو دنیا سے ایسے ہی جانا ہے لیکن خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے رب کے اصولوں پر زندگی بسر کرے اور رب العالمین کا ساتھی بنے۔ مولانا نے رب کا راستہ چنا اور رمضان کے مہینے میں سفر عاقبت پر گامزن ہوئے، ہمیشہ دعا گو۔ (نبیلہ خان، اسلام آباد) بے شک مولانا نے حق ادا کیا دین اور قرآن کے لیے بہت کام کیا۔ ساری زندگی انھوں نے قرآن کو دی ہے۔ بے شک مولانا اپنے کام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے، نسلیں انھیں پڑھیں گی، ان شاء اللہ (ڈاکٹر تنویر، اسلام آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page