Al-Risala · August 2021 · page 137

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۷

مولانا وحید الدین خان: حیات اور افکار عزیز علی داد، پاکستان اسکول کے زمانے میں ہم ہر شام مکتب دینیہ جاتے تھے۔ وہاں ہمیں دین ودنیا کو سمجھنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ اس عبادت گاہ میں ایک بڑی لائبریری موجود تھی جس میں ہم ہر روز بیٹھ کر کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس زمانے میں ہمارے لیے اردو پڑھنا تو کجا، بولنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ زبان کے معاملے میں اس نالائقی کے دور میں ایک دن مولانا وحیدالدین خان کی سرپرستی میں چھپنے والا رسالہ’’الرسالہ‘‘ ہمارے ہاتھ لگا۔

اس دور میں جب ایک عام قاری کی معیاری کتب تک رسائی تقریباً ناممکن سمجھی جاتی تھی، یہ رسالہ متجسس اذہان کے لیے گویا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ اس رسالے کی اہم بات یہ تھی کہ یہ ہلکی پھلکی زبان میں مذہبی معاملات پر مکالماتی انداز میں روشنی ڈالتا تھا۔ مولانا سے تعارف ہوا تو ان کی مزید کتب سے استفادہ کرنے کی کوشش شروع کی۔ اور یوں ان کی کتاب رازِ حیات بھی اسی دور میں پڑھ ڈالی۔ اس وقت چونکہ ہم نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، سو ہم رازِ حیات کے فلسفے کو بھی جوانی کے جوش سے دیکھ رہے تھے۔ اسی وجہ سے مولانا کی رازِ حیات کو ہم زیادہ گہرائی میں سمجھ نہیں پائے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رازِ حیات کے مباحث سے دوبارہ واسطہ پڑا۔ اور تب ہی پتہ چلا کہ زندگی ایک راز ہے اور اس کو بامعنی گزارنا ایک فن ہے جو ہم بالکل بھی نہیں جانتے تھے۔ کالج کا دور کراچی میں گزارنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ الرسالہ باقاعدگی سے مل جاتا تھا۔ کراچی کے ریگل چوک اور پی آئی بی کالونی کی ریڑھیوں اور فٹ پاتھوں پر ہم نے علم کے خزانوں کو بکھرا پایا۔ یہیں سے مولانا وحید الدین خان اور دوسرے نامور مصنفین کی کتابیں نہایت ہی سستی قیمت پر مل جاتی تھیں۔ یوں ہمارا زیادہ تر وقت ان کو سمجھنے کی کوشش میں گزر جاتا۔ مولانا صاحب کی تحریریں ہم جیسے طفل مکتب کے لیے ایک زود ہضم خوراک کی مانند ثابت ہوئیں۔ انھوں نے روایتی علماء کے فتوئی ساز رویے سے انحراف کیا۔ مسلمانوں کے پاس کوئی علمی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page