Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳۸
صنعت تو ہے ہی نہیں۔ ان کے پاس سب سے بڑی صنعت فتویٰ سازی کی ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں اسلام میں داخل کرنے سے زیادہ اسلام سے خارج کرنے کا رجحان غالب ہے۔ اسی کی وجہ سے آج غیر مسلم لوگ مسلمانوں کو اتنی بڑی تعداد میں غیر مسلم نہیں بنا سکے جتنا مسلمانوں نے مسلمانوں کو غیر مسلم بنایا ہے۔ مسلمانوں کو کافر بنانے کا سب سے زیادہ کام اسلام کے اسی قلعے میں ہوا جسے خداداد مملکت پاکستان کہا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب مولانا وحید الدین نے فتووں کی دکان کھولنے کی بجائے اپنے زمانے کے رویوں، سوالات اور افکار کی روشنی میں اسلام کی تشریح کی۔ اس مقصد کی خاطر انھوں نے ایک ادارے کی بھی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام مرکز برائے امن و روحانیت (The Centre for Peace and Spirituality) رکھا۔ اس ادارے کا مقصد امن کی ثقافت کو ذہنی روحانیت کے ذریعے پروان چڑھانا تھا۔
مولانا دنیا کے جس حصے کا بھی سفر کرتے، وہاں سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر آتے تھے اور اس سبق کو ڈائریوں اور سفر ناموں کی صورت میں شائع کرتے اور اسے عوام الناس تک پہنچانے کی سعی کرتے۔ ویسے تو جو جیسا ہوتا ہے اسے چیزیں بھی ویسی ہی نظر آتی ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے لوگ ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں سوائے عریانی، فحاشی، بے حیائی اور شراب نوشی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ مولانا وحید الدین کی اردو اور انگریزی میں کتابیں زیادہ تر عصر حاضر کے معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام اور عصر حاضر، مذہب اور جدید چیلنج، مارکسزم : تاریخ جس کو رد کر چکی ہے، مذہب اور سائنس، سوشلزم اور اسلام، اظہارِ دین، خدا کی دریافت وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انگریزی میں ان کی کتابیں، مثلاً:
The Prophet of Peace: Teachings of the Prophet Muhammad Indian Muslims: The Need for a Positive Outlook Islam: Creator of the Modern Age عصر حاضر کے مسائل پر ہی بحث کرتی ہیں۔
مولانا وحید الدین کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ مسلمان اس جدید دور میں اپنے عصری، علمی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو سمجھنے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر اپنانے کے اہل بن جائیں، اور اندھی تقلید کے منحوس چکر میں پڑ کر اپنی زندگیاں نہ گزاریں۔ کیونکہ اندھی تقلید ہی کی وجہ سے مسلمان اپنے خول میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues