Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴۰
چھین لی ہیں۔ اس قریب المرگ ذہنیت سے نجات زندگی سے دوبارہ تعلق پیدا کر کے حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہماری زندگی فی الحال موت اور ہیبت کے سوداگروں کے ہاتھ گروی رکھی ہوئی ہے۔ اس لیے ہم زندگی جی نہیں رہے بلکہ گزار رہے ہیں۔ یا درکھیے جیل میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے قیدی زندگی جیتے نہیں گزارتے ہیں۔
ہماری زندگیاں بھی ان سوداگروں کے وجہ سے ایک ذہنی قید خانے میں مقید ہوگئی ہیں۔ ظاہر ہے اس قید خانے سے باہر نکلنے کی سزا موت ہی ہوگی۔ یا خدا جائیں تو کہاں جائیں۔ جیل کی کال کوٹھری میں گھٹن مار دیتی ہے اور باہر نکلنے کی کوشش کریں تو مذہب کے نام نہاد محافظ مار دیتے ہیں۔ اور بدقسمتی سے مولانا وحید الدین کی وفات کے ساتھ زندگی سے محبت کے بیانیے کا ایک چراغ بجھ گیا ہے اور ہم مزید اندھیروں کے سوداگروں کے زیر اثر آگئے ہیں جوحیات، علم اور محنت نہیں بلکہ موت، جہالت اور نفرت بانٹتے ہیں۔ موت، تاریکی اور عقل کے دشمن کے لگائے ہوئے پہروں میں زندگی، عقل اور روشنی کی بات کرنا ایک ربانی عمل ہے جسے مولانا وحید الدین نے بخوبی سرانجام دیا۔ (بشکریہ ہم سب، پاکستان)
مجھے مولانا کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو تعبیر کی غلطی“ کے ابتدا میں درج ہیں۔ آہ، اب پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ رقم طراز ہیں ”اس کتاب کی اشاعت میرے اوپر اتنی سخت ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے شائع ہونے کے بعد میں کسی ایسی جگہ جا کر چھپ جاؤں جہاں کوئی شخص مجھے نہ دیکھے، اور پھر اسی حال میں مر جاؤں“۔
اختلاف کا یہ طریقہ کتنا بھلا معلوم ہوتا ہے۔
جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی!
( دانیال طاہر، کراچی )
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues