Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴۱
مولانا وحید الدین خان ، ایک عہد ساز شخصیت لونگین یوسف زئی ، پاکستان مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری 1925ء کو ہندوستان میں ریاست اتر پردیش کے ایک علمی خطہ اعظم گڑھ میں ہوئی۔ والد فرید الدین خاں اپنے علاقے کے ایک بہت بڑے زمین دار تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے قابلِ عزت و احترام تھے، جب کہ والدہ زیب النسا گھریلو امور سنبھالنے والی ایک ذمہ دار خاتون تھیں۔
مولانا کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لیے ان کی مکمل پرورش والدہ نے اپنی نگرانی میں کی۔ مولانا کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے جدید علوم کے حصول پر توجہ دی اور سب سے پہلے انگریزی زبان سیکھی۔ اُس کے بعد مغربی علوم کا مطالعہ شروع کیا۔ حتیٰ کہ ان علوم پر کافی دسترس حاصل کر لی۔ اسلامی اور مغربی علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا صاحب اس نتیجہ پر پہنچے کہ آج کل کے دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔
مولانا کو پانچ زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان میں اُردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی شامل ہیں۔ مولانا صاحب ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی کرتے تھے۔ ٹی وی چینلوں پر آپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔
مولانا وحید الدین خاں دراصل بے پناہ صلاحیتوں اور خصوصیات کا نام ہے، جن کی زندگی کے بے شمار باب ہیں اور ہر باب اپنے آپ میں مستقل اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم مولانا کی زندگی کا اصل مشن اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانا تھا۔ مولانا نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ عام طور پر دانشور طبقے میں امن پسند مانے جاتے تھے۔ امن اور برابری کے اپنے فلسفے اور مستقل پیغام کی وجہ سے اپنے ناقدین میں بھی مقبول رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues