مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵۱
کیا، اور یہ کہا کہ اگر یہی اسلام ہے تو ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہی مولانا مرحوم کی مغفرت و درجات کی بلندی کے لیے کافی ہے ان شاء اللہ۔
میں نے خود دیکھا کہ ایسے مقامات پر مولانا کے نام سے ان کی کتابیں ورسائل وفکری مضامین تقسیم کرنے کی عام اجازت ملی جہاں کسی ٹوپی وداڑھی والے کا گزر مشکل تھا۔ مثلاً جے پورلٹریچر فیسٹول، وغیرہ۔ زمانے کے اسلوب میں اسلام کی حقانیت پیش کرنے وتہذیب اسلامی کے صحیح خدوخال اجاگر کرنے واظہار دین کا یہ گراں مایۂ کارنامہ تاابد یاد رکھا جائے گا، نئی نسل کو مثبت فکر وایجابی اسلوب میں سوچنے سمجھنے ودوسروں تک اسے پیش کرنے کا عظیم کارنامہ مولانا مرحوم کا ایک عمدہ تحفہ وحسین گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے سارا عالم معطر ہوتا رہے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج دعوت وتبلیغ کی جلوہ سامانی وتابانی ہمیشہ زندہ وجاوید رہے گی۔ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع نہیں چھوڑا، جہاں آپ نے دعوت پیش نہ کی ہو، آپ کبھی عکاظ کے میلے میں، کبھی ذو المجاز و ذو المجنہ کے کافروں ومخالفوں کی جہمٹ میں، کبھی کسی گھاٹی میں مشرکین کے ازدحام میں اسلام کا کلمہ پہنچایا اور ہر جگہ مخالفتوں وذشنام طرازیوں وخردہ گیریوں وحجاں فشانیوں کے باوجود کامرانی وکامیابی کی دولت سے ہمکنار ہوئے۔ یہی معاملہ مولانا کا تھا۔ حق ہے کہ اسلامی دعوت کی تڑپ میں لیل ونہار کی گردشیں گزارنے والے دعوت وتبلیغ کے اس داعی، محی السنة کا نام ہمیشہ جگمگا تار ہے ۔ اے مرد مجاہد ! تیری رفعتوں کو دوام، تیری عظمتوں کو سلام، اور تیری مثبت وایجابی فکروں کو عروج حاصل ہو، اور مخلوقِ خدا کو اس سے تشنہ کامی کو دور کرنے وتاریکی کو مٹانے کی توفيق وسعادة حاصل ہو۔
بہت اداس ہوں ۔ مولانا سے بہت متاثر ہوں ۔ ایسی صالح اور پاک زندگی گزاری ہے انہوں نے کہ جس پر رشک کیا جاسکتا ہے۔ جب بھی زندگی سے مایوس ہوتا ہوں مولانا کی کوئی کتاب پڑھتا ہوں اور تازہ دم ہو جاتا ہوں ۔ (شہر زاد علی، اٹک، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues