مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵۴
غلطی ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم ہر امام کا احترام کرتے ہیں، لیکن کسی بھی امام کی سوفیصد تقلید نہیں کرتے، نہ ائمہ اربعہ کی، نہ امام بخاری و مسلم کی، نہ امام ابن تیمیہ کی اور نہ ہی امام البانی کی۔ اس طرح ہم مولانا وحید الدین خان کی تقلید کی بھی دعوت نہیں دیتے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ حدیث کے مطابق حکمت کی بات ایک مسلمان کا گم گشتہ خزانہ ہے وہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687)۔ سوفیصد اتباع صرف اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو، آپ کے علاوہ کسی کی بھی جائز نہیں ہے۔
مولانا وحید الدین خان ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار اور ان گنت خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، بلکہ وہ موحد تھے اور اللہ کا وعدہ ہے کہ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو معاف کر دوں گا (سورہ النساء آیت 48)۔ وہ نہ قبر پرستی کے قائل تھے نہ ہی تعزیہ پرستی کے اور نہ ہی بزرگ پرستی کے قائل تھے۔ ان کی کمی دنیا میں محسوس کی جائے گی، اور ان کو سدا یاد رکھا جائے گا۔ برطانیہ میں مقیم مولانا عبد الہادی العمری، مولانا احمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، ڈاکٹر صہیب حسن، مولانا عبد الحق مدنی، محمد فاروق نسیم، مولانا کنور شکیل محمد سلمان اظہر، مولانا عبد الباسط عمری، مولانا محمد ابراہیم میر پوری، حافظ حبیب الرحمن جہلمی، ڈاکٹر شمشاد احمد ڈائریکٹر آئی پی سی آئی برمنگھم، حافظ عبد الاعلیٰ درانی، برادر خالد خان، برادر ثاقب بانی الہجرہ، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر حضرات نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا تبلیغ والوں کے ساتھ سالانہ چلہ کے لیے نکلا ہوا تھا کہ رات بھائی نے یہ جانکاہ خبر سنائی۔ عصر حاضر میں دعوت دین کا ایک بہت بڑا ستون گرا ہے۔ مولانا سے محبت کا تقاضا یہ ہے ان کی دعوت اور پیام امن کو عام کیا جائے۔ (ذکا ء اللہ ، اسلام آباد)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues