Al-Risala · August 2021 · page 155

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵۵

مولانا وحید الدین خان : کچھ یادیں اور باتیں ظہیر احمد، ایڈیٹر تحریر وتصویر (پاکستان)

1925ء کو اعظم گڑھ اتر پردیش میں پیدا ہونے والے ممتاز اسکالر مولانا وحید الدین خان 21 اپریل 2021 کو دہلی میں انتقال کر گئے۔ انہیں 12 اپریل کو کرونا کی تشخیص کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ 96 برس کی عمر پانے والے مولانا وحید الدین خان کو اسلام کے حوالے سے مختلف اپروچ اور طرز فکر کا بانی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے تقریبا 200 کتابیں لکھیں۔ مولانا وحید الدین خان کو معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کے لیے طویل کوششوں پر بھارت کا دوسرا اعلی ترین شہری اعزاز بھی "پدم وبھوشن" دیا گیا تھا۔ تاہم ان کے ناقدین بابری مسجد کے انہدام اور کچھ دیگر حوالوں سے، ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ مگر ان کی علمی فضیلت کو تسلیم کرنے سے انہیں بھی انکار نہیں تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی علمی فضیلت کا اعتراف کرنے والوں میں مسلمان ناقدین کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی صدر رام ناتھ نے بھی تعزیتی پیغامات میں مولانا وحید الدین خان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر تعلیم اپنے آبائی علاقے کے ایک روایتی مدرسے سے حاصل کی تھی۔ تاہم ان کے انتقال کے بعد پاکستان کے ممتاز اسکالر جاوید احمد غامدی نے جب ٹی وی پر مولانا کے حوالے سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نہ صرف مولانا وحید الدین خان کے استاد رہے تھے بلکہ بعد کے زمانے میں ان کے شاگرد رہنے کا اعزاز جاوید احمد غامدی کو بھی حاصل ہوا۔ تقسیم ہند کے بعد 1947ء میں وہ جماعت اسلامی انڈیا میں شامل ہو گئے اور 1963ء تک اس کے رکن رہے۔

مولانا وحید الدین اس عرصے میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ لیکن نظریاتی اختلاف کے سبب، جو اسلام میں سیاست کے حوالے سے تشریح کی بابت ابھرے، وہ جماعت اسلامی سے دور ہو گئے۔ غالباً یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان میں جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد اور کچھ دیگر اہم شخصیات کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page