Al-Risala · August 2021 · page 159

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵۹

پورٹ پر کچھ دیر ٹھہرے تو طارق رحمن نے انھیں مجھ سے اور''تحریر وتصویر‘‘ سے متعارف کرایا، جس کا ذکر انھوں نے غالباً ’’الرسالہ‘‘ میں کیا۔ طارق رحمن نے 2007 میں دہلی جا کر مولانا سے ملاقات کی تصویر بھی ان کے انتقال پر ملال کی خبر کے ساتھ بھیجی ہے۔ ’’تحریر وتصویر‘‘ جولائی 1991ء کے شمارے سے میرے کالم کا ابتدائی حصہ از سر نو کمپوزنگ میں ملاحظہ ہو:

ممتاز عالم دین، مفسر قرآن اور’’الرسالہ‘‘ دہلی کے مدیر مولانا وحید الدین خان نے’’الرسالہ‘‘ فروری 1991 کے شمارے میں اپنے دورہ روس کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے: سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک’’مخالف‘‘ کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ واقعہ نہیں، یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے، جو اس کو سارے عالم پر غالب کیے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور برداشت ہے۔ مغربی جمہوریت جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے۔ وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لیے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اس صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔ موجودہ زمانے کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لیے جگہ ہے، جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے’’اکابر‘‘ پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علمی اور مدلل کیوں نہ ہو، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے بلائیں۔ موجودہ اسلامی اداروں کی یہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ یہ ادارے سطحی انسانوں کی سرائے بن کر رہ گئے ہیں۔ کم از کم پچھلے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں پھر وہاں اعلیٰ درجے کے انسان کیوں پیدا ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page