Al-Risala · August 2021 · page 160

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۰

مولانا وحید الدین خاں مولانا محمد شمشاد ندوی ، جے پور مولانا وحید الدین خاں کئی روز علیل رہنے کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی رحلت کی خبر عام ہوتے ہوتے تعزیتی بیانات آنے شروع ہوئے۔ مولانا اپنے مضامین، تصنیفات اور اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے ہر طبقہ میں متعارف تھے اور برادران وطن میں بھی مقبول تھے۔ ان کا ’الرسالہ‘ وقت پر پابندی کے ساتھ شائع ہوتا اور اس کے قارئین بے صبری سے اس رسالہ کا انتظار کرتے۔ ان کی تصنیفات میں ’علم جدید کا چیلنج‘، ’خاتونِ اسلام‘ اور ’پیغمبر اسلام‘ وغیرہ اپنے موضوعات پر منفرد اور جامع کتب ہیں جو کئی زبانوں میں شائع ہو کر مشہور و متداول ہو چکی ہیں۔ اسی طرح ’الرسالہ‘ کے بہت سے مضامین و مقالات نہایت قیمتی ہیں۔ مولانا موصوف اپنی آخری عمر تک اپنے مشن کے لیے وفادار اور یکسو رہے اور ہر کام کو وقت اور پابندی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ مولانا کے منفرد و اچھوتے انداز نے ان کی تحریروں کو پڑھنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے ملی نظریات سے اختلاف کے باوجود ان کے کچھ مضامین اور منتخب کتابوں کا مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔ مولانا وحید الدین خاں یکم جنوری 1925ء کو بڈھریا، ضلع اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مدرسۃ الاصلاح میں تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوئے اور یہاں سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد تحریری میدان میں قدم رکھا۔ آپ کی ایک کتاب ’علم جدید کا چیلنج‘ بہت مشہور ہوئی۔ جمعیۃ علماء ہند کے ترجمان ’الجمعیۃ‘ دہلی میں مدیر رہتے ہوئے قیمتی مضامین لکھے۔ دھیرے دھیرے پورے ہندوستان میں متعارف ہو گئے اور آپ کے مضامین شوق و دلچسپی سے پڑھے جانے لگے۔ 1976ء میں ماہنامہ ’الرسالہ‘ جاری کیا جس کو وہ پابندی کے ساتھ شائع کرتے رہے۔ یہ رسالہ بہت شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ مولانا کی تقریباً دو سو کتابیں ہیں جو اردو، عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوئیں۔ مولانا کا ترجمہ قرآن کئی زبانوں میں شائع ہو کر بڑے پیمانے پر تقسیم کیا گیا۔ ان کی کتابیں برائے استفادہ بلا قیمت دی گئیں۔ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں بھی ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page