Al-Risala · August 2021 · page 161

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۱

کتابوں کا اسٹال لگایا جاتا ہے۔ ان کی ایک کتاب ’الاسلام متحدہ عرب کی یونیورسٹی میں شامل نصاب ہے۔ 12 مئی 1989ء میں حکومتِ پاکستان نے ان کی کتاب ’پیغمبرِ انقلاب‘ (انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ حکومتِ ہند کی جانب سے ان کو کئی اعزازات پدم بھوشن ایوارڈ، قومی یکجہتی ایوارڈ، ’قومی اتحاد ایوارڈ، اور قومی شہری اعزاز، دیے گئے۔ اسی طرح ’ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز، اردو اکیڈمی اعزاز، دہلی اعزاز (دہلی حکومت) سے بھی نوازے گئے۔

مولانا وحید الدین خان کا ترجمہ قرآن اور ان کی کتابیں ان حلقوں میں پہنچ جاتی ہیں جہاں ہمارے علماء ومصنفین کی کتابوں کی رسائی نہیں ہوپاتی۔ سخت گیر ہندو تنظیموں وجماعتوں کے اسٹیج پر مولانا مخاطب ہوتے تھے۔ مولانا کا نظریہ تھا کہ ہم نرمی اختیار کر کے ہندوستان میں دعوتی کاموں کے لیے سرگرم ہوجائیں اور برادرانِ وطن میں اسلام اور مسلمانوں کے متعلق جوشکوك وشبہات اور غلط فہمیاں ہیں ان کا ازالہ کریں۔ اگر ہندوستان میں ہندواور مسلم میں دوریاں بڑھیں گی اور آپسی غلط فہمیاں بڑھیں گی تو ہم دعوتی کام آسانی سے نہیں کرسکیں گے اور مسلمانوں کے لیے حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ مولانا ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد میں حائل رکاوٹیں ختم ہوں۔ ملی مسائل کو صبر وتحمل کے ساتھ حل کرنا چاہتے تھے وہ امن واتحاد کے ایسے داعی اور مبلغ تھے جو برادرانِ وطن سے خوشگوار و بہتر تعلقات کے لیے ہر سمجھوتہ کو بہتر سمجھتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے نظریات وخيالات کے خلاف مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور مراسلے وتبصرے شائع کیے گئے۔ بہت سے لوگوں نے ہندوستان کی تاریخ، ماحول اور حالات میں ان کی اعلانیہ تائید کی۔ مولانا وحید الدین خان کی رحلت اہل علم اور اہل خرد کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ کوئی بات تو ہے کہ مسلمان، غیر مسلم، غیر مذہبی سب غم کا اظہار کر رہے ہیں۔ علمائے اسلام کو اس بات پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے جیسا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (عمیر سالار، پاکستان) تاریخ کو پڑھنے کا نقطۂ نظر یعنی تاریخ کا مطالعہ برائے اپنی اصلاح ان سے سیکھا ہے، اور بھی بہت کچھ ان سے سیکھا ہے۔ (عاطف شہزاد)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page