مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۲
مولانا وحید الدین خاں سے ایک غیر رسمی ملاقات سہیل ارشد، انڈیا عظیم اسلامی مفکر مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کی میری دیرینہ خواہش جولائی 2016ء میں پوری ہوئی۔ میں نے ان کے نظام الدین دلی کے مکان میں ان سے ملاقات کی۔ وہ بالکنی میں میرے ساتھ بیٹھے۔ میرا ارادہ ان سے انٹرویو لینے یا ان سے علمی گفتگو کرنے کا نہیں تھا۔ بلکہ صاف گوئی کا تقاضا یہ ہے کہ میں ان سے علمی گفتگو کا خود متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔ میرا ارادہ صرف ان جیسی عہد ساز شخصیت سے ملنے اور ان سے گفتگو کرنے کا تھا۔
میں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی ان کا رسالہ الرسالہ پڑھا تھا اور دوسرے لاکھوں مسلمانوں کی طرح ان کے عصری اسلوب سے بہت متاثر تھا۔ لہذا قیام دہلی کے دوران میں نے ان سے ملاقات کی۔ انھوں نے دوران گفتگو اپنی ذاتی زندگی سے متعلق تھوڑی بہت گفتگو کی اور مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی مسائل سے متعلق کبھی اپنی آراء ظاہر کیں۔ انھوں نے بچوں کی پرورش سے متعلق اپنا طرز فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے بچوں کو بھی بے جالاڈ پیار سے نہیں بگاڑا اور ان کی کبھی ناز برداری نہیں کی۔ ہمیشہ انھیں یہ احساس دلایا کہ انھیں اپنی زندگی اور کیریئر کو بنانے کے لیے خود ہی محنت کرنی ہوگی۔
اکثر مشہور عوامی شخصیات کے بچے اپنے والدین کی مدد اور اثر ورسوخ پر منحصر رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی شہرت اور اثر ورسوخ کی بنا پر ان کا کیریئر بنادیں یا ان کے مسائل حل کردیں۔ اس وجہ سے ان کے بچے نفسیاتی طور پر کمزور اور اپنے ہر مسئلے کے حل کے لیے اپنے والدین پر منحصر ہوتے ہیں۔ مولانا وحید الدین خاں نے اپنے بچوں کو شروع ہی سے حالات سے خود ہی لڑنے اور اپنی زندگی اور کیریئر کی تعمیر خود ہی کرنے کی نفسیاتی ترغیب دی۔ انھوں نے کہا کہ جب میرا بیٹا بالکل چھوٹا تھا تو کبھی کبھی رات کو بغیر کھائے سو جاتا تھا۔ میری بیوی اس کو جگانے کی کوشش کرتی تھی تاکہ اسے کھلا سکے تو میں ان سے کہتا تھا کہ اسے چھوڑ دو، سونے دو، وہ نہیں کھائے گا تو مر نہیں جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues