Al-Risala · August 2021 · page 163

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۳

انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں اکثر دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کرتا ہوں۔ اکثر لوگ غیر ممالک سے لوٹتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے وہاں سے تحفے لے کر آتے ہیں۔ میں نے کبھی غیر ممالک سے اپنے بچوں کو کچھ لا کر نہیں دیا۔ اس طرزِ عمل کا فائدہ یہ ہوا کہ آج میرے بیٹے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں اور انھوں نے اپنا کیریئر خود بنایا ہے۔

چونکہ مولانا وحید الدین خاں نے اپنا علمی سفر اردو صحافت سے شروع کیا تھا۔ اس لیے انھوں نے اردو صحافت کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ وہ اردو صحافت کے معیار سے نالاں تھے۔ انھوں نے کہا کہ اردو اخبارات مسلمانوں کا جذباتی استحصال کرتے ہیں اور ان کی سماجی اور سیاسی ترقی میں کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کرتے۔ اس طرح اردو صحافت زرد صحافت کے زمرے میں آتی ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ پوری اردو صحافت ہی زرد صحافت ہے۔ ان کی اس رائے سے ہو سکتا ہے کہ کافی لوگوں کو نا گواری ہو مگر ان کی یہ رائے ان کے ذاتی مشاہدے پر مبنی تھی۔ دورانِ گفتگو اسلامی مدارس کا بھی ذکر آیا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی میں مدارس کے کردار سے خوش اور مطمئن نہیں تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ مدارس ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی ترقی میں قابلِ ذکر کردار ادا کر سکتے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ انھوں نے الرسالہ کے ایک شمارے میں مدارس سے متعلق اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کیا تھا۔ (بہ شکریہ اخبار مشرق، کولکاتا، 6 جون 2021، صفحہ 6) مولانا کی وفات کی خبر سن کر ایک شعر یاد آ گیا جو مولانا کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے: جس کے لیے جئے تھے اُسی سے ہیں جا ملے لاریب ہر وفا کا صلہ پاچکے ہیں ہم! مولانا وحید الدین ایک ایسے عالم تھے جنھوں نے پوری زندگی امن اور محبت کا پیغام دیا، اور مسلمانوں کے لیے ایک مصلح قوم اور مجدد کا کام کیا (سعید شاہد، کراچی) مولانا نے ساری زندگی امت کے لوگوں کو بڑی بڑی غلطیوں اور فتنوں سے خبردار کرایا اور ہمیشہ حقیقت پسندی کا درس دیا۔ (اسفندیار، اسلام آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page