Al-Risala · August 2021 · page 164

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۴

میرے علمی استاد اور رہبر فاروق عادل، پاکستان مشہور عالم دین، مذہبی اسکالر، خطے میں امن کے داعی، برصغیر کے عہد ساز مصنف اور دو سو سے زائد کتابوں کے خالق مولانا وحید الدین خان (2021-1925) اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ مولانا وحید الدین میرے علمی استاد اور رہبر رہے ہیں، آپ سے عشق کی انتہا تھی، سچ پوچھیے تو جب بھی زندگی سے دل اکتا جاتا تو مولانا صاحب کی کتابیں بہترین معالج ثابت ہوتیں، آپ پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر میرے احساسات کی ترجمانی کے لیے مولانا پر 2019 کی ایک پرانی تحریر پیش خدمت ہے۔ (اماں! وہ کتابیں آپ کی امانت ٹھہریں)

یوں تو پچھلے دس سالوں سے میرے گھر میں کتابوں کا آنا ایک معمول بن چکا ہے۔ بسا اوقات کتابوں کی کثرت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ گھر میں ادھر اُدھر بکھری پڑی نظر آتی تھیں جس سے ایسا معلوم ہوتا کہ یہ رہائشی گھر نہیں بلکہ لائبریری ہے۔ یہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی تھی۔ رات کے پہلے پہر میں کتاب ہاتھ میں تھامے با آواز بلند پڑھ کر سنا رہا تھا، اور امی بلا کسی نقل وحرکت کے خاموشی سے سن رہی تھیں۔ میں تقریباً ہر کتاب سے باری باری پیرا گراف پڑھ کر سنا رہا تھا۔ بالآخر جب میں نے کتاب کو بند کر کے پرے رکھ دیا تب امی نہایت ہی شائستگی سے مجھے یہ تاکید کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ میں یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کی یہ بات سن کر میں کافی حیرت زدہ رہ گیا۔ کیوں کہ آج تک امی نے مجھے کوئی بھی چیز دینے سے منع نہیں کیا تھا اور مگر یہ میں پہلی مرتبہ سن رہا تھا۔ اسی لیے میں نے بلا توقف یہ بات امی کو بول ہی دیا کہ تعجب ہے آپ آج منع فرما رہے ہیں وہ بھی کتب دینے سے۔ میری بات سن کر جواب میں امی نے مسکراتے ہوئے کہا ہاں یہ کتب یہیں رہنے دو اگر ہو سکے تو انہیں کہیں شفٹ مت کرنا کیوں کہ ان میں کافی زیادہ حکمت اور سبق آموز کلمات درج ہیں۔ امی کے اصرار پر کتابوں کے حوالے سے میں نے اُس گھڑی کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں کیا البتہ کتابیں کچھ دن اور گھر میں رکھنے کی ضرور ٹھان لی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page