مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۶
امی کے اس شوق و تجسس کو دیکھتے ہوئے میں یہ کتابیں پڑھ کر امی کو سناتا تھا اور امی سن کر یہ فرماتے بغیر نہ رہتیں کہ یہ انمول کتابیں کہیں پر دینے کے بجائے یہیں گھر ہی میں رکھ دوں۔ امی کہ یہ بات سن کر میں کسی نتیجے پر تو نہیں پہنچتا البتہ دل ہی دل میں یہ فیصلہ ضرور کرتا کہ کتابوں کی ترسیل کچھ دن اور ٹال دوں۔ یہ تسلسل جاری ہی تھا کہ کچھ دن بعد میری اماں اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ اماں کے گزرنے کے بعد جہاں دیگر ان گنت مسئلے سراٹھائے کھڑے تھے، وہیں ایک مسئلہ ان کتابوں کا بھی تھا جو کچھ دن پہلے میری اور اماں کی صحبت میں رہی تھیں۔ ایک طرف ان کو گھر میں رکھنے کی اماں کی خواہش بے چین کرتی تو دوسری جانب انہیں لائبریری میں جمع کرانے کا وعدہ آڑے آتا۔ ان دو راستوں سے ایک کا انتخاب کرنا کٹھن فیصلہ تھا۔ اس لیے کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ مولانا صاحب کی ٹیم کو صورت حال سے مطلع کیا جائے۔ بعد ازاں جو فیصلہ ان کی طرف سے آئے گا وہی حتمی اور قابل قبول مانا جائے گا۔
چنانچہ مولانا صاحب کی ٹیم سے میں رابطہ کیا، اور اپنی صورت حال ان کے سامنے بیان کی۔ میری بات سننے کے بعد ٹیم نے اماں کے بلند درجات کے لیے بے شمار دعائیں دی اور یہ فیصلہ صادر کیا کہ کتابیں اماں ہی کے خواہش کی مناسبت سے گھر میں رکھی جائیں۔ مشاورت آنے کے بعد بوجھ کافی ہلکا ہوا وعدہ خلافی بھی نہ ہوئی اور اماں کی خواہش بھی پوری ہوگئی۔ ایک اور کام جو پہنچ راہ ادھورا رہ گیا تھا وہ بھی اب پہلے کی طرح جاری وساری ہے۔ یعنی اماں کو یہی کتابیں پڑھ کر سنانا اس مناسبت سے اب تک کم سے کم تین چار کتابیں اماں کو پڑھ کر سنا چکا ہوں اور بقیہ کتابیں بھی پڑھ کر اماں کے گوش گزار کرنے کا مقروض ہوں اور ساتھ ہی یہ عہد کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند کرے، اور ان کا پھیلایا ہوا علم ان کے لیے صدقہ جاریہ بنے، آمین۔ عظیم مبلغ اسلام، عالم، مصلح اور مصنف مولانا وحید الدین خاں کے سانحہ ارتحال پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ اشاعت و تبلیغ دین کے لیے مولانا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے۔ (teamSarwar@)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues