Al-Risala · August 2021 · page 167

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۷

اعظم گڑھ سے نظام الدین ویسٹ براستہ پٹھان کوٹ عبداللہ طارق سہیل اسلام کے بے مثال مفسر اور شارح مولانا وحید الدین خان ساڑھے 96 سال کی عمر میں بزم دنیا سے رخصت ہوئے۔ اعظم گڑھ سے شروع ہونے والا سفر براستہ پٹھان کوٹ دہلی کی کالونی نظام الدین ویسٹ میں ختم ہوا۔ ان کی زندگی اور فکر الہی تین مقامات کے گرد محور گردش رہی، جغرافی نہیں، روحانی اور عقلی طور پر۔ مولانا کا الرساله مشن دنیا کے ہر ملک میں ہے اور ان کا ماہانہ جریدہ الرساله اردو اور انگریزی زبانوں میں دنیا کے ہر گوشے میں پڑھا جاتا ہے۔ حلقے کے لوگ اپنے طور پر اس کے تراجم دیگر زبانوں میں بھی کرتے ہیں۔ ہندوستان سے نکلنے والا اور کوئی بھی رسالہ یا ضمیمہ اتنا بڑا دائرہ اشاعت نہیں رکھتا۔ مولانا نے دین کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے قرآن کا مطالعہ معتقدین کی قیود سے آزاد ہو کر کیا اور دین کی حقیقی تعبیر کے لیے بہت برس جانکا ہی کی۔ اسی سفر کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لی کہ ان کے خیال میں جماعت ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کی مرتکب ہوئی تھی۔ وہ اسلامی لحاظ سے ٹھیک نہیں تھی۔ اس ناطے چھپنے والی ان کی کتاب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ دن بدن مولانا کے حامیوں کی تعداد بڑھی اور خود جماعت کے اندر بھی نظر ثانی کی سوچ پیدا ہوئی لیکن سیاست کے ارتقائی سفر میں واپسی کی راہ نہیں تھی۔ مولانا کی حیرت انگیز کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ ہے۔ ایسے وقت میں جب جدید اسلامی تحریکوں کا طوطی پورے عالم اسلام میں بول رہا تھا اور مراکش سے لے کر جکارتہ تک نئے طالب علم مولانا مودودی، سید قطب اور بدیع الزمان نورسی کی فکر کے اسیر ہورہے تھے، وحید الدین خان نے اپنے گہرے مطالعہ اور اچھوتی تحریروں سے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ اخوان المسلمون نے مصر میں جو راستہ اختیار کیا، اس سے انھیں یہ موقع نہیں مل پایا کہ وہ نیا راستہ تلاش کر سکے۔ بھارت کی جماعت اسلامی مانے نہ مانے لیکن وہ مولانا مودودی اور

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page