مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۸
مولانا وحید الدین کے بتائے گئے رستوں پر بیک وقت چل رہی ہے۔
مولانا وحید الدین خان نے امریکہ سے لے کر جاپان تک پورے کرہ ارض میں غیر مسلموں کی سوچ کو بھی متاثر کیا۔ خود بھارت میں ہندو دانشوروں کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے بارے میں اپنا طرز عمل بدلنے پر مجبور ہوئی۔ بھارتی میڈیا بھی ان سے متاثر ہے۔ تجربات نے بتایا ہے کہ جہاں جہاں ان کی حکمت عملی پر عمل کیا گیا، وہاں وہاں ہندو مسلم فسادات میں کمی آئی۔ عشرہ بھر پہلے کی بات ہے، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی جہادی فلسفے کے سحر کا اسیر تھا۔ امریکہ نے آنکھیں بدلیں اور اس کے سرکاری غیر سرکاری راز، دستاویزات اور کتابوں کی شکل میں پے در پے سامنے آنے لگے تو جہاد افغانستان سے لے کر جہاد کشمیر تک سب کی حقیقت کھل گئی ۔ پچھتاوے سے زیادہ یہ احساس تکلیف دہ رہا کہ کس طرح ہمیں بے وقوف بنایا جاتا رہا۔ انہی دنوں مولانا وحید الدین مرحوم کے بعض اینٹی جہاد (بقول ہمارے) مضامین پر اپنے کالم میں سخت تنقید کی اور ایسی تنقید کہ اس میں بے ادبی بھی شامل ہوگئی ۔ بہت بار ارادہ کیا کہ ان سے معافی مانگ لوں لیکن تیز رفتار واقعات کے دھارے نے ٹھہر کر سوچنے کا موقع ہی نہ دیا۔ اب ناگزیر موقع ہے، تو ان کی روح سے معافی کا خواستگار ہوں۔ وہ لامحالہ صحیح تھے اور ہم تو محض بے وقوف بنائے گئے تھے ۔ ہم اسے جو سودا bargain سمجھے، یہ وہ نہیں تھا، یہ تو کوئی اور ہی سودا stuff نکلا۔ مولانا وحید الدین نہیں رہے، جاوید غامدی پاکستان چھوڑ گئے۔ پردیس میں ہیں اور عمر بھی اپنے تقاضے لاگو کرتی ہے۔ پہلے جیسا کام شاید اب نہیں کر سکتے۔ ان کی فکر کے ایک وارث صاحب علم ہیں۔ بہت قیمتی کالم لکھتے ہیں۔ وقتی موضوعات پر بھی ان کی تحریریں مستقل قدر رکھتی ہیں، لیکن ان کے حلقے کو زیادہ ضرورت ’’الرسالہ‘‘ کی دعوت اور ریسرچ کو آگے بڑھانے کی ہے۔ خدا مولانا وحید الدین کے درجات بلند فرمائے۔ (ڈیلی اردو، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues