ایم ایم ادیب ، پاکستان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۶۹
مولانا وحید الدین خان انتقال فرما گئے!
ایم ایم ادیب ، پاکستان
دو چار یا دس برس کی نہیں یہ برسوں پرانی بات ہے ، سن اور سال بھی مجھے یاد نہیں ، بس دن یاد ہے کہ اتوار تھا اور میں ایک بہت ہی قریبی دوست کے یہاں بیٹھا گھنٹوں مایوسی کی باتیں کرتا رہا۔ اس مونس وغم خوار نے بھی مجھ رنجور کے سارے شکوے، نالے اور فریادیں بھر پور حوصلے اور صبر کے ساتھ سنیں۔ چار پانچ گھنٹوں کی نوحہ گری کے بعد جب میں اٹھا تو اس نے ایک موٹے سے خا کی لفافے میں بند ایک کتاب میرے حوالے کرتے ہوئے کہا گھر جا کر کھولنا۔ میں کتاب بغل میں دبائے گھر کی اور روانہ ہوا تو عجیب سا احساس بھی دل و دماغ میں گردش کر رہا تھا کہ آخر کون سی کتاب میرے دوست نے آج مجھے دی ہے کہ جسے اپنے یہاں کھولنے کا یارا بھی نہ دیا۔ خیالات کا ایک ہجوم تھا جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، شاید کوئی عمدہ ناول، یا پھر کہانیوں یا شاعری کا مجموعہ، تاریخ کی کوئی کتاب یا نفسیات پر دھما کہ خیز مواد پر مشتمل کوئی انمول کتاب کیونکہ یہی میری اور اس کی دلچسپی کے موضوعات تھے۔
میں نے چلنے کی رفتار تیز کی اور بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا گھر پہنچا، بنا تاخیر لفافہ چاک کیا تو اس میں ایک کتاب تھی’’ راز حیات‘‘ از مولانا وحید الدین خان۔ یہ کیا کتاب ہوئی میں نے بے دلی کے ساتھ حسب عادت دیباچہ پڑھنا شروع کیا۔
’’الفرڈ ایڈلر موجودہ زمانے کا مشہور نفسیاتی عالم ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (Individual Psychology) تھا۔ اس کے بارے میں ایک مبصر نے لکھا ہے :
After spending a lifetime studying people and their hidden reserves of power, the great psychologist, Alferd Adler declared that one of the wonder-filled characterstics of human beings is "their power to turn a minus into a plus". پوری عمر انسان کا اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد، عظیم نفسیات
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues