ایم ایم ادیب ، پاکستان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۱
”رسالہ“ کے ہر ٹائٹل پر چند الفاظ پر مشتمل ایک جملہ ہوتا ہے، جو اصلاح احوال کی کنجی کی حیثیت رکھتا۔ ان کے انہی جملوں کو یکجا کر دیا جائے تو اقوالِ زریں کی ایک دبیز جلد مرتب ہو جائے گی۔ مارچ 2021ء کے شمارے پر یہ جملہ درج ہے ”اختلافات کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک کی پیروی اور سب کا احترام“۔ اسی طرح اپریل کے شمارے کی زینت جو جملہ ہے وہ یہ ہے ”پہلا موقع ملے تو اس کو ضرور استعمال کیجیے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ دوسرا موقع اس کو ملے گا یا نہیں۔ “ مولانا وحید الدین کا وصف یہ تھا کہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس کی سائنسی بنیادوں تک گئے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اسلامی مسئلے کی سائنٹفک بنیادیں تلاش کرتے اور دلائل و براہین کے انبار لگا دیتے ۔ ان کی رائے سے اختلاف کی جراءت کوئی عام نوعیت کا اسکالر نہیں کر سکتا تھا کہ وہ جدید سائنسی نظریات کو اچھی طرح سمجھتے اور ان کی مبادیات کی پرکھ کر کے اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔
مولانا کے جہان فانی سے رخصت ہو جانے سے عالم اسلام کا ایک ایسا قلعہ مسمار ہو گیا جہاں سے بے دینی اور الحاد کی یلغار کو پورے جوش و جذبے سے روکا جاتا تھا۔ ان کے ہفتہ وار لکچرز کا سلسلہ تمام ہوا، مگر انہوں نے اسلامی موضوعات پر اتنا وقیع کام کیا جسے یک جا کرنے کے لیے ان کے جتنی عمر چاہیے۔ انڈیا میں ان کی فکر کی وارث ان کی ہونہار بیٹی اور بہت سارے اور لوگ ہیں تو پاکستان میں بھی طارق بدر، سیف اللہ اور بہت سارے اور لوگ ہیں جو اُن کے فکر و نظر کی اشاعت کا کام سالہا سال سے سر انجام دے رہے ہیں۔ اللہ ان سب کو لمبی زندگیوں سے نوازے کہ ایک بڑے کام کے لیے بڑی عمر کی ضرورت ہے۔ آمین (ڈیلی اوصاف، پاکستان)
جو لوگ جاننا چاہتے ہیں، کہ بغیر کسی پارٹی، جماعت، گروپ، احتجاج یا اجتماع کے کام کس طرح ممکن ہے۔ وہ مولانا وحید الدین صاحب کی زندگی کو دیکھ لیں۔ خاموش سا انسان، صرف قلم و بیان اور محدود وسائل میں آج دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ ان کے فلسفہ عدم تشدد کا آج ہر شخص قائل ہے۔ (حفیظ الرحمن، لاہور)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues