Al-Risala · August 2021 · page 172

ایم ایم ادیب ، پاکستان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۲

آہ! مولانا وحید الدین نواز خالد عاربی، پاکستان دس سال قبل پاک پٹن میں تعیناتی کے دوران وہاں مقیم ایک اسکالر، پروفیسر محمد یعقوب بھٹی صاحب سے مسجد میں اتفاقاً ملاقات ہوئی۔ پروفیسر صاحب کی عالمانہ گفتگو سے متاثر ہو کر میں انہیں اپنے ساتھ دفتر لے آیا۔ اُن سے مختلف دینی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اگلے دن وہ دوبارہ تشریف لائے اور مجھے ماہنامہ ’’تذکیر‘‘ کا ایک شمارہ پڑھنے کو عنایت کیا۔ چالیس صفحات پر مشتمل شمارہ میں 23 مختلف موضوعات پر بات کی گئی تھی۔ اختصار کے باوجود ہر موضوع سے انصاف کیا گیا تھا۔ میں جوں جوں مطالعہ کرتا گیا، پڑھنے کی خواہش بڑھتی گئی۔ میں نے اس کا اظہار، اگلی ملاقات پر، پروفیسر صاحب سے کیا تو وہ مجھے اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں، چند پرانے رسائل اور کچھ کتابیں مطالعہ کے لیے عنایت کر گئے۔ دو ماہ کے مطالعہ کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اسلامی تعلیمات اور ہماری معاشرتی سوچ اور زندگی کو کتنا جدا جدا کر کے دیکھا جاتا ہے۔ میری تو جیسے کایا ہی پلٹ گئی اور سوچ کا زاویہ یکسر بدل گیا۔ معاملہ فہمی آسان ہو گئی۔ میں جو بات بات پر جھگڑ پڑتا تھا یا غصہ میں آجاتا تھا، اب صلح پسندی اور نرم گفتاری کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے دوسرے کو شکست دینے کو فتح سمجھتا تھا، اب دوسرے کی شکست کو اپنی شکست سمجھنے لگا۔ تاہم ایک دُکھ بھی تھا کہ اتنی مثبت تبدیلی کا سامان بہت تاخیر سے ہوا۔

متذکرہ کتابیں اور رسالے مولانا وحید الدین کی تصانیف و تالیف تھیں۔ مولانا وحید الدین 1925ء میں ضلع اعظم گڑھ، بھارت میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 2021 کو کورونا کا شکار ہو کر رحلت فرما گئے۔ اپنی چھیا نوے برس کی مطالعاتی، تحقیقی، تالیفی وتصنیفی مشقت سے لبریز زندگی میں جو کار ہائے نمایاں انہوں نے سرانجام دیے، تاریخِ اسلام میں ایک مثال رہے گی۔ آپ نے ’’الرسالہ‘‘ کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی فکری اصلاح تھی۔ دیگر اقدامات کے علاوہ اس تحریک کے تحت اُردو اور انگریزی میں الگ الگ ماہوار رسالوں کا اجرا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page