Al-Risala · August 2021 · page 175

ایم ایم ادیب ، پاکستان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۵

دبستان شبلی کی ایک اہم شخصیت گل رحمان ہمدرد، باچا خاں یونیورسٹی، کے پی کے، پاکستان ابھی ابھی یہ افسوس ناک خبر ملی کہ ہندوستان کے نامور دینی اسکالر مولانا وحید الدین خاں انتقال کر گئے ہیں۔ وحید الدین خاں یکم جنوری، 1925ء کو اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں پیدا ہوئے۔

مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ میں علم کی تحصیل کی جہاں پر وہ مولانا امین احسن اصلاحی سے براہ راست فیضیاب ہوئے۔ بعد میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور ایک عرصہ تک اس جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے۔ 1960 کے لگ بھگ ان پر یہ انکشاف ہوا کہ مولانا مودودی کی فکر میں خوفناک خلا موجود ہے جو اسلام کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔ چنانچہ انہوں نے "تعبیر کی غلطی" کے نام سے وہ مشہور کتاب لکھی جس میں فکر مودودی کی بنیادی غلطی انتہائی محکم دلائل سے واضح کی۔ اہل علم کے نزدیک یہی کتاب ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ ان کی دیگر کتابیں حقیقت میں اسی کتاب کی شرح ہیں۔ آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی رہیں۔ مولانا وحید الدین خاں تشدد کے بجائے امن کے داعی تھے۔ مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا، مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا و تکلیف پر یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا، ان کا مشن رہا۔ بیسویں صدی کے جذباتی اور جہادی ماحول میں ان کی فکر کو خاص پذیرائی نہ مل سکی تھی۔ لیکن جوں ہی اکیسویں صدی نے اپنے چہرے سے پردہ ہٹایا اور مسلمان اپنی انتہا پسندانہ طرز عمل کی وجہ سے دنیا بھر میں مشکلات کا شکار ہوئے تو دھیرے دھیرے مسلمانوں کے اہل دانش وحید الدین خان کے منہج اور فکر کے قائل ہوتے چلے گئے۔ اس کے بعد وہ بلا مبالغہ لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ عام طالب علموں کے ساتھ ساتھ غامدی، خضر یاسین اور راشد شاز جیسے اعلیٰ پائے کے دینی اسکالرز کی فکر پر بھی ان کی فکر نے اثرات ڈالے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page