Al-Risala · August 2021 · page 176

ایم ایم ادیب ، پاکستان

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۶

خان کی فکر اپنے باطن میں تصوف کے عناصر رکھتی تھی۔ اس لیے میرے لیے ہمیشہ ان کی فکر میں کشش رہی۔ کچھ عرصہ قبل ایک اسکالر دوست نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحیدالدین خان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ۔ میں نے کہا کہ وحیدالدین خان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ وہ مزاجاً تصوف کا آدمی تھا۔ اس طرح کے گہرے غوروفکر کا آدمی اگر تصوف میں ہوتا تو علی ابن عثمان ہجویری، خواجہ نظام الدین اولیاء اور خواجہ معین الدین اجمیری کے برابر کا مقام پاتا۔ خان کی دعوت کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ عرفانِ نفس و باطن کی تحریک ہے۔ طریق کار بھی صوفیوں کا ہی ہے یعنی امن، محبت اور دعوت ومکالمہ۔

ابوالکلام آزاد کے بعد وحیدالدین خان ہندوستانی مسلمانوں کے حقیقی فکری مسیحاتھے۔ ہر موقع پر انہوں نے مسلمانوں کی درست رہنمائی کی اور جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے کی تلقین کی۔ وہ جلال الدین رومی کے اس فلسفہ پر کامل یقین رکھتے تھے کہ دلیل کی تلوار لوہے کی تلوار سے زیادہ کارگر ہے۔ مسلمانوں کو اب بھی ان کی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ان کی وفات مسلمانانِ عالم کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی میں مولانا کی کتاب اللہ اکبر پڑھ رہا ہوں رمضان میں..... مجھے اب پتہ چلا کہ اللہ سے محبت اور عقیدت کیسے ہوتی ہے۔ (نجم الدین، اسلام آباد)

بلا شبہ مولانا صاحب اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری اور محنت سے سر انجام دیتے رہے۔ ان کی فکر آخرت کے لیے تھی اور معرفت خدا کے لیے تھی۔ یہ مسلسل مشق ہے جو جاری رہنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ وہ سفر ہے جو قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔ (چودھری سلمان، پاکستان)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page