ایم ایم ادیب ، پاکستان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۸
بزم ہستی کو سوگوار کر گئے ڈاکٹر سید طفیل ہاشمی، اسلام آباد، پاکستان مولانا سے پہلا تعارف 1973 میں ہوا، جب ایم اے علوم اسلامیہ کے دوران ان کی تالیف علم جدید کا چیلنج پڑھی، جو بعد میں مختلف نام اور تدوین جدید سے شائع ہوتی رہی۔ اس کے بعد شاید جماعت اسلامی کے کسی دوست نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں نے مولانا مودودی کو بالاستیعاب پڑھ رکھا ہے، ان کی دوسری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ سے متعارف کرایا۔
میں نے محسوس کیا کہ ایک بڑے اسکالر کے اندر امام شاطبی کی طرح ایک بے لچک مولوی بھی چھپا بیٹھا ہے۔ تاہم میں نے مولانا مودودی اور خان صاحب کے اختلاف کو ہمیشہ دو مختلف ممالک کے حالات اور سماج کے تناظر میں اسلام کی قابل عمل تعبیر سمجھا۔ یہ حق و باطل کا اختلاف نہیں تھا، بلکہ ابن قیم کی تعبیر کے مطابق تغیر الاحکام بتغیر الزمان کا نمونہ تھا۔ مولانا کی ’’کتاب معرفت‘‘ اس وقت بھی میرے سائیڈ ٹیبل پر موجود ہے اور تازہ تالیف ’’خدا کی دریافت‘‘ ٹیبلٹ کے ڈراپ باکس میں۔ برصغیر کی روایتی فکر سے مولانا نے علمی اور عقلی دلائل کی بنیاد پر کئی مسائل میں اختلاف کیا لیکن میرے خیال میں روایتی فکر کا تعلق فکری ارتقا کے تاریخی مراحل سے ہے جب کہ مولانا اسلام کے آفاقی پیغام کو اس کے وسیع تناظر میں جدید تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچانے اور ان کے لیے قابل فہم بنانے کے داعی تھے۔ ان کی فکر کا بنیادی نکتہ ’’دعوت الی اللہ‘‘ تھا۔ ان کے خیال میں ساری انسانیت رسول اکرم کی امت دعوت ہے اور مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دعوت دین کے لیے وقف کر دیں۔ طالبان علم کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی بڑے صاحب علم کے تفردات کی وجہ سے اس کے افکار، تخلیقیت اور مناہج سے خود کو محروم رکھیں۔ عالم اسلام ایک بڑے داعی سے محروم ہو گیا۔ سب کو دنیا سے ایسے ہی جانا ہے لیکن خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے رب کے اصولوں پر زندگی بسر کرے اور رب العالمین کا ساتھی بنے۔ (سعید الرحمن، فیصل آباد)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues