ایم ایم ادیب ، پاکستان
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷۹
مولانا وحید الدین خاں: تین ملاقاتیں اور کچھ باتیں آصف تنویر تیمی مولانا وحیدالدین بین الاقوامی شہرت کے حامل عالم دین تھے۔ مولانا پر لکھنا یا ان کو سمجھنا بہت آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ ان کی علمی اور دعوتی سرگرمیاں پورے سوسال پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی سمجھے کہ چند صفحات یا چند سطروں میں لکھ کر ان کا حق ادا کر دے گا تو میرے خیال میں یہ خام خیالی ہے۔ خود مولانا کی زندگی میں ان سے تعلق اور عقیدت رکھنے والے شاہ عمران حسن نے اوراق حیات کے نام سے جو کتاب لکھی وہ نو سو تراسی (۹۸۳) صفحات پر مشتمل ہے۔
شاہ عمران آغاز کلام میں لکھتے ہیں: مولانا وحید الدین خان کی پیدائش یکم جنوری ۱۹۲۵ کو ہندوستان کے ایک علمی شہر اعظم گڑھ میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم عربی درس گاہ میں ہوئی ۔ عربی اور دینی تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے علوم جدیدہ کی طرف توجہ دی ۔ اولاً ذاتی مطالعہ کے ذریعہ انھوں نے انگریزی زبان سیکھی ۔ اس کے بعد سائنسی علوم کا مطالعہ شروع کیا ۔ حتیٰ کہ ان میں پوری دست گاہ حاصل کرلی۔ اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے۔ اور پھر وہ اس مہم میں لگ گئے ۔ یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِ جدید ہے۔ (اوراقِ حیات، صفحہ 15)
مولانا موصوف خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں: میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔ میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو ۱۹۴۷ء سے پہلے کے ہندوستان کوسن شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جب میں نے مولانا حسین احمد مدنی ، پنڈت جواہر لال نہرو، سبھاش چندر بوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں، جب کہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی، جس نے ۱۹۳۶ء کے پہلے الیکشن کو براہ راست دیکھا، جس نے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues