Al-Risala · August 2021 · page 182

https://thefreelancer.co.in/?p=9676

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۲

اس سے میں بالکل واقف نہ تھا۔ خیر تلاش بسیار کے بعد ہم دونوں مولانا کے گھر پہنچ گئے۔ گھر کے اندر آنے کی اجازت بھی ملی۔

مولانا صاحب اپنے گھر کی پہلی منزل پر لائبریری میں تشریف فرماتھے۔ کشادہ گھر، چاروں طرف سے الماریوں میں کتابیں تھیں۔ شیخ بدر نے مولانا موصوف سے مختلف علمی، عالمی اور سیاسی سوالات کیے، مولانا نے سب کا جواب دیا۔ ساتھ ہی مولانا نے اپنی عربی وار دو کتابوں کا تعارف بھی مہمان سے کرایا۔ یہ غالباً ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ اس وقت ان کی عمر اسی کے پار تھی۔ پھر بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے میں کسی قسم کی ان کو کوئی پریشانی نہ تھی۔ اللہ نے مولانا کو لمبی عمر کے ساتھ صحت وتندرستی سے بھی نوازا تھا۔ مولانا نے چائے وغیرہ سے ہم لوگوں کی ضیافت کی۔ شاید ظہر یا عصر کا وقت بھی ان ہی کے گھر میں ہوگیا۔ اسی لائبریری میں ہم لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی۔ مردوں کے ساتھ ان کے گھر کی خواتین نے بھی ہم لوگوں کے پیچھے نماز باجماعت ادا کی۔ اور اس طرح چند ساعات ملنے ملانے کے بعد ہم دونوں رخصت ہو گئے۔ جب سیڑھی سے اترے تو دیکھا کہ ٹیلی ویژن والے نیچے مولانا کا انٹرویو لینے کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ دوسری ملاقات بھی چند دنوں کے بعد شیخ بدر ہی کے ساتھ ان کے گھر نظام الدین میں ہوئی ۔ اس دفعہ ہم نے ان کے مکتبہ گڈ ورڈ سے چھ کتابیں بھی خریدیں۔

تینوں ملاقات میں میں نے یہ اندازہ لگایا کہ آپ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ آپ کی زندگی کا خلاصہ دعوت وتبلیغ اور تالیف و تصنیف ہے۔ تمام تر دنیاوی مال وجاہ اور سیاسی اثرورسوخ کے باوجود آپ نہایت سادگی پسند ہیں۔ آپ کے پاس چند جوڑے کرتے پاجامے تھے۔ جو وہیں لائبریری کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے۔ کپڑے تو صاف ہوتے تھے مگر کبھی ان کپڑوں پر استری نہیں پڑتی تھی ۔ آج ہمارے علما ء میں یہ سادگی مفقود ہے۔ سارا زور ظاہری خوبصورتی پر ہوتا ہے۔ علمی یا عملی خوبصورتی ہو یا نہ ہو۔ ہم مولانا سے فکری ونظری اختلاف کے باوجود ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا انکار نہیں کر سکتے۔ آپ کی اردو، ہندی، انگریزی اور عربی تصنیفات کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ ان میں درجنوں کتابیں ہیں جنھیں کچھ احتیاط کے ساتھ مطالعہ کر سکتے ہیں۔

https://thefreelancer.co.in/?p=9676

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page