https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۳
وحید الدین خان کا احسان فاروق عادل، پاکستان مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ مولانا وحید الدین خان سے میرا تعارف ان کے ماہنامہ "الرسالہ" کے ذریعے ہوا۔ ہلکے رنگوں کے سر ورق اور پینتیس چالیس صفحات کا یہ پرچہ کوئی الگ ہی چیز تھی۔ ایک ایک، پونے پونے یا آدھے آدھے صفحے کی تحریریں ہوتیں، کچھ ایسی بے ساختگی سے شروع ہوتیں جیسے ہم سانس لیتے ہیں، یا بہت سی میٹھی اور ذرا سی نمکین شکنجین کا ایک فرحت بخش گھونٹ جو روح میں تازگی پیدا کر دے اور انسان سوچے کہ وہ اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکر ادا کر پائے گا؟ یہ پرچہ بھی اللہ کی ایک ایسی ہی نعمت تھا۔ ہماری نسل کئی اعتبار سے خوش قسمت رہی ہے۔ اس خوش قسمتی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم لوگوں نے اقبال جیسے دیو قامت فلسفی، ابو الکلام جیسے مشکل پسند مصنف اور ابو الاعلیٰ جیسے سنجیدہ اور مشنری بزرگوں کے سامنے آنکھیں کھولی ہیں۔ ان بزرگوں کی کئی خوبیاں تھیں تو ایک مشکل بھی تھی۔ یہ مشکل کیا تھی، اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جنھوں نے اپنے کلاس میں اس قسم کے ایک شعر کا مطلب نہ بتانے کی وجہ سے مار کھائی ہو:
مگس کو باغ میں نہ جانئے دیجیؤ ناحق خون پروانے کا ہوگا وہ نسل جس نے ایسے پیچیدہ اشعار کی وجہ سے استاد کی چھڑی سے اپنے ہاتھ لال کروا رکھے ہوں گے، انھیں یہ رسالہ کیوں نعمت نہ لگتا۔ اس رسالے کی ہر تحریر ایک ہی مصنف یعنی وحید الدین خان کی لکھی ہوتی۔ تحریریں کیا ہوتیں، کہانیوں کی مانند آسانی سے سمجھ میں آجانے والی باتیں ہوتیں ۔ ہم یہ کہانیاں پڑھتے اور سوچتے کہ بارالہ! اس شخص کی قوت مشاہدہ کتنی تیز ہے جس کوچے سے بھی گزر جاتا ہے، سبق آموز واقعات سمیٹ کر زنبیل میں ڈال لیتا ہے اور کچھ ایسے اسلوب میں بیان کرتا ہے، جی چاہتا ہے کہ بات ختم ہی نہ ہو، ہزار داستان بن جائے۔ سچ جانے تو وحید الدین خاں بھی ہمارے عہد کے ’’شہر زاد‘‘ تھے جنھوں نے آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ہمارے بلند قامت بزرگوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues