https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۴
موجودگی میں لکھنے کی الگ راہ نکالی اور دیکھتے ہی دیکھتے، اپنے عہد پر چھا گئے۔ مولانا وحید الدین خان نے دعوت و اندازِ موضوع میں چاشنی بھر کر اسے ایک نئی شکل اور ایک نیا اسلوب دے دیا جس کی جتنی تفہیم معمولی پڑھے لکھے لوگوں یا ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے آسان تھی، اتنی ہی بھاری بھرکم اور جناتی لٹریچر پڑھنے والوں کے لیے بھی خوش گوار تھی۔ ان تحریروں کے مصنف نے اپنی ان کہانیوں سے اخلاق کا درس دیا، دین کی حکمت بتائی اور مذہبی منافرت کے گھٹن والے ماحول میں کشادگی سے سانس لینے کی آسانی فراہم کی۔
ان کی تحریروں سے ہی معلوم ہوا کہ اس بزرگ کا شمار کبھی مولانا مودودی کے ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے راہ نماؤں میں ہوا کرتا تھا۔ یہ واقعہ کب ہوا ہوگا، اس کی تو ہمیں خبر نہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ ہماری نسل کے اس دنیا میں آنے سے پہلے پیش آچکا ہو۔ ان کی تحریروں میں ایک سبق یہ بھی ملتا تھا کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے، وہ کمزوری جس سے وہ کنڈیشنڈ ہو چکا ہو، اس سے نجات کے لیے بڑا ریاض چاہیے۔
کمزوری کے تذکرے کا بھی اپنا ایک پس منظر ہے جسے سمجھے بغیر اس عہد کے مسلمانوں کی نفسیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے بارے میں ان کے ناقدین کا خیال تھا کہ وہ عیسائیت کے اُس تصور کے اسیر ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی اس کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وحید الدین خان کے بارے میں یہ تاثر بہت پختہ ہے لیکن اصل بات کچھ اور ہے۔
ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ جو ہم ہر وقت بطل حریت بن کر ساری دنیا کو ایک ہی وقت میں دشمن بنا کر اپنے اور غیر سب کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں، یہ کچھ ایسا ضروری بھی نہیں۔ وہ کچھ مثالیں پیش کیا کرتے اور بتاتے کہ ہمارے لوگوں نے اپنے اس طرز عمل کی وجہ سے ساتھ کے گھر میں بسنے والے کسی ہندو، کسی عیسائی یا احمدی، قادیانی وغیرہ سے دعا سلام کے رشتے ہی توڑ ڈالے ہیں۔ اگر دین کا مزاج یہی ہوتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی ایسا ہی ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ صرف تیرہ برس کی قلیل مدت میں پورے عرب میں انقلاب آجاتا؟
یہ پندو نصیحت کرتے کرتے وہ ایک بار شہر زاد بن جاتے اور ہمارے آپ کے جانے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues