https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۵
پہنچانے گلی کوچوں سے چن کر کوئی ایسی حقیقی مثال پیش دیتے جسے سن کر لگتا کہ ارے، ایسا تو ہم نے بھی دیکھ رکھا ہے لیکن یہ جو ہم نے دیکھ رکھا ہوتا تھا، اس کی اہمیت تبھی سمجھ میں آتی جب وہ خان صاحب کے اشہب قلم سے نکل کر ہمارے سامنے آتی۔ یہ ان کی ایسی ہی دل نشیں حکایات کی دین ہے کہ تین چار دہائیوں تک جنگ و جدل کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں خوار و زبوں ہو کر ہم آج اپنی دکھی دنیا میں محبت کے رنگ بھرنے اور کچھ نئے میثاق کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ کاش یہ نصیحت ہماری سمجھ میں کچھ پہلے آجاتی۔
حضرت داتا صاحب، شیخ سعدی شیرازی اور مرشدوں کے مرشد مولانا روم، یہ سب ہمارے ایسے بزرگ ہیں جن کے ملفوظات اور ان کی حکایات آج بھی ہمارے رگ و پے میں خون کی طرح دوڑتی ہیں اور ہم سوچتے ہیں، ایسی کمال کی باتیں تاریخ کی امانت ہیں، ہمارا عہد ان سے خالی ہے لیکن خان صاحب کو پڑھ کر محرومی کا یہ احساس دور ہو جاتا ہے۔ (ہم سب، پاکستان) مولانا وحید الدین خان صاحب کی کتابوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا، مجھے دور حاضر میں جدید دانشوروں کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کا حوصلہ ملا، ان کی ”رازِ حیات“ نے میری زندگی میں رحمتیں بکھیر دیں۔ ان کی ”مذہب اور جدید دور کا چیلنج“ نے میرے سامنے علم الکلام جدید کا ایک دروازہ کھول دیا۔ جب میں نے ”مذہب اور جدید دور کا چیلنج“ کا مطالعہ کیا تو مجھے علم کا دریا بہتا ہوا نظر آیا۔ عصرِ حاضر کے اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان صاحب ہم میں نہیں رہے۔ (حمیر اعوان، پاکستان)
مولانا اس کا ادراک رکھتے تھے کہ وہ مکمل طور پر سیلف میڈ اور یونیک (unique) شخصیت تھے ۔ اور بے شک جتنی باریک بینی سے بھی کوئی اس دعوے کو پرکھے وہ اس پر انہیں پورا اترتا ہوا پائے گا۔ یہ self-realization تھا، تعلی نہیں۔ ان کے جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنے کسی سگے بزرگ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو۔ (حمزہ ہاشمی، کراچی)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues