https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۶
سائنٹفک نظریات کے علمبردار عالم عبدالحق خان مولانا وحید الدین خان کو سمجھنے کے لیے ان کی کتابوں اور ان کی تحریروں کو پڑھنا ہوگا۔ وہ ایک اعتدال پسند اسلامک اسکالر اور عالم دین ہیں ، جب ٹی وی یا اخباروں میں کوئی مذہبی بحث ہوتی تو مولانا کو تلاش کیا جاتا تھا۔ کیونکہ وہ بہت ہی متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ ان کو کسی تحریر یا مضمون سے نہیں سمجھا جاسکتا ، کیونکہ کچھ لوگ اگر ان کے مخالف ہیں تو بعض ان کے نظریہ کے سخت حامی بھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنی سادگی اور بیباکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقہ میں مقبول رہے ہیں۔ پیدائش: مولانا 1925ء میں اتر پردیش کے مردم خیز علاقہ اعظم گڑھ کے بڈھر یا قصبہ میں پیدا ہوئے تھے۔ مدرسہ الاصلاح اعظم گڑھ میں انہوں نے عالمیت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامی مرکز نئی دہلی کے سر براہ رہے اور وہاں سے مقرر، مصنف اور مفکر کی خدمات انجام دیتے رہے اور اپنے مرکز کے رسالہ الرسالہ کے مدیر رہے۔ مولانا ہفت روزہ الجمعیۃ میں 1967ء سے 1974ء تک ایڈیٹر بھی رہے۔ انہیں اردو، ہندی ، عربی، فارسی اور انگریزی پر یکساں عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں کو ہر طبقہ، جن میں دانشوروں کی تعداد زیادہ ہے، بہت ہی دلچسپی سے مطالعہ کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے ہند ومسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ برادران وطن میں اسلام سے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں، انہیں حتی الامکان دور کیا جاسکے۔ ان کے نزدیک دعوت دین کے لیے یہ ایک بنیادی اصول ہے۔ انفرادی نظریہ کے علمبردار: مولانا منفرد نظریات اور خیالات کے حامل تھے۔ مولانا اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے ۔ شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی ۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفکیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نسبتاً غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے ۔ ان سب کے باوجود مولانا کے انفرادی نظریات کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues