Al-Risala · August 2021 · page 187

https://thefreelancer.co.in/?p=9676

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۷

سبب بعض اہل علم اور نقاد صاحبان ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔

مولانا کی تصنیفات کی فہرست طویل ہے۔ انھوں نے کل ملا کر دوسو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں اور ان کی علمی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا نے اہم اسلامی موضوعات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی اکثر کتابوں کے ترجمے انگریزی اور عربی وغیرہ زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ مولانا کی عظمت اور علمی بلندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کتاب الاسلام تحدی، مذہب اور جدید چیلنج، قطر، قاہرہ، طرابلس، خرطوم اور تیونس کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل رہ چکی ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی اعزازات: ڈیمورگس بین الاقوامی ایوارڈ سابق سوویت یونین کے صدر گورباچیف کے ہاتھوں دیا گیا۔ پدم بھوشن، قومی یکجہتی اعزاز، کمیونل ہارمنی اعزاز، قومی اتحاد اعزاز، ارونا آصف علی (بھائی چارگی ایوارڈ)، بین الاقوامی اعزاز۔ مولانا کی خدمات کے صلہ میں 1989ء میں حکومت پاکستان نے مولانا کی کتاب پیغمبر انقلاب پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا۔ ادھر انہوں نے ٹی وی، ریڈیو اور سیمیناروں میں کمزوری صحت کی وجہ سے جانا بند کر دیا تھا، لیکن اپنی آخری سانس تک دعوت و تصنیف کا کام کرتے رہے۔ لیکن جس طرح لوگ ان کی زندگی میں ان کے علم سے استفادہ کرتے رہے ہیں، امید ہے کہ اب ان کی عدم موجودگی میں بھی لوگ ان کے صالح تعمیری اور سائنٹفک نظریات سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔ (دی وائس ڈاٹ ان)

عظیم نقصان۔۔ یہ فقرہ ہزاروں بار سنا کہ فلاں شخص کا خلا کوئی پر نہیں کر سکتا لیکن سہی معنوں میں یہ فقرہ مولانا کے لیے کہا جا سکتا۔ ۔۔ کیونکہ ان کی جیسی مثبت سوچ کے علماء بہت بہت کم ہیں۔۔۔ شاید کوئی اکا دکا۔ ۔۔ مسلم امہ اس وقت جس ذہنی پستی اور تنگ نظری میں مبتلا۔ ۔۔ مولانا اس میں ایک امید تھے۔ ۔۔ کاش مولانا کی سوچ آگے چلتی رہے۔ ۔۔ ورنہ راہ بہت تاریک ہے۔ (لقمان ظفر، کراچی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page