https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۸
بصائر وعبر کے ایک عہد کا خاتمہ ناظم اشرف مصباحی، مغربی بنگال، انڈیا ہمارے ہاں تعزیتی کلمات میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فلاں کے جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، اکثر اوقات یہ لغو اور بے معنی معلوم ہوتا تھا۔ لیکن کل مولانا وحیدالدین خان صاحب کے انتقال پر جب یہی الفاظ دیکھا تو لگا جیسے آج ان کلمات کو صحیح مقام مل گیا۔ واقعی مولانا کے ساتھ ایک عہد بصیرت، ایک عہد اسلوب، ایک عہد فکرو تدبیر کا خاتمہ ہوگیا۔ ان کا انتقال امت کے لیے کسی بڑے سانحہ سے کم نہیں، بلکہ 2021 کو سب سے زیادہ اس سانحہ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ 21 ستمبر 2017 کی شام کو جب سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مولانا کے گھر بھی پہنچا، سی پی ایس کے متحرک ممبر جناب یعقوب عمری صاحب اور دیگر حضرات نے استقبال کیا اور مولانا سے ملاقات ہوئی اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا، مولانا نے مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، اس کے بعد بھی طویل گفتگو رہی، بالآخر عشاء سے کچھ دیر پہلے رخصتی کی اجازت لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کی ملاقات ہے۔ ان کی خوش اخلاقی بھی یاد ہے اور تمکنت بھی۔ اندازہ ہوا کہ مولانا جیسا لکھتے تھے ویسا بولتے بھی تھے، ان کی زبان و تحریر میں مجھے فرق نظر نہیں آیا، وہی الفاظ، وہی چھوٹے جملے، وہی تعبیرات۔
ڈاکٹر ذیشان صاحب نے انہیں ”بیسویں صدی کی مسلم بصیرت‘‘ کہا ہے، جو سو فیصد درست کہا ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود مولانا وحیدالدین خان صاحب کا طرز تحریر اور اسلوب ہر ایک کے نزدیک مسلم ہے۔ انہوں نے اپنی خدماتی زندگی کی شروعات عام دھارے سے کی، لیکن اپنی فکری جولانی اور اجتہادی شان کی وجہ سے الگ راہ بنائی اور تا حیات اسی پر چلتے رہے۔ ایک نئے لکھاری طالب علم کے لیے ان کی ذات ہمیشہ مشعل راہ بنی رہے گی کہ انہوں نے کثرت سے لکھا، ہر مہینے لکھا، ہر ہفتے لکھا، ہر دن لکھا، بلکہ وہ پوری زندگی لکھتے ہی رہے، اخیر عمر میں لکھنے کے ساتھ بولنا بھی شروع
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues