Al-Risala · August 2021 · page 189

https://thefreelancer.co.in/?p=9676

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۸۹

کیا ۔ ایک طویل مدت تک الرسالہ کو تن تنہا لکھا، وہ اپنے رسالے کے خود ہی مدیر، خود ہی مرتب اور خود ہی لکھاری تھے۔ ادھر ہم جیسے ہزاروں لکھاریوں کا پورا مہینہ یہ سوچنے میں گزر جاتا کہ کس ٹا پک پر لکھیں، ادھر مولانا کا ایک مکمل رسالہ چھپ کر آ جاتا۔

انہوں نے ماہنامہ لکھے جو اسلام کے فکری انقلاب کی دعوت دیتے تھے، انہوں نے ڈائریاں لکھیں جو مکمل دستاویز ہوا کرتی تھیں، انہوں نے کتابیں لکھیں جو فکر و بصیرت کے دریچے کھولتی تھیں۔ پہلے عام موضوعات پر لکھا، پھر مذہبی سیاسیات پر لکھا، پھر فکریات پر آئے، پھر دعوت کو موضوع سخن بنایا، اس کے بعد اخیر عمر تک روحانیت پر لکھتے رہے۔ ان کی تحریروں کے مواد سے اختلاف تو ہو سکتا ہے، لیکن ان کے مسلسل لکھنے، اچھا لکھنے، بغیر دل دکھائے تنقید لکھنے کی ادا سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔ مولانا کے جانے سے دل اداس ہے، من مضطرب ہے، قدم بوجھل ہیں اور آنکھیں نم ہیں۔ ایک عہد ساز شخصیت کی دنیا سے رخصتی میرے لڑکپن کی محبت سید مودودی اور ان کی تعبیر دین تھی، تمام دنیا پر اسلام کا غلبہ ہمیشہ مطمح نظر رہا۔ لڑکپن کی اس محبت میں دراڑ ڈالنے والی ہستی مولانا وحید الدین خان مرحوم کی تھی، ان کی کتاب’ تعبیر کی غلطی‘ نے سب کچھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ سید صاحب کی فکر سے دامن چھڑانا اتنا آسان تو نہ تھا لیکن کچھ مدت کے بعد احساس ہو گیا کہ مولانا وحید الدین کی بات درست ہے۔ الحمد للہ، حق کی محبت سید مودودی کی محبت پر غالب آ گئی۔ اللہ کی محبت میں سرشار مولانا وحید الدین خان ایک سچے داعی تھے، بلاشبہ اپنے رب سے شدید محبت کرنے والے۔ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے جو وارفتگی کی کیفیت ان کے ہاں محسوس ہوتی شاید بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہوگی۔ ان کی عظیم شخصیت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔ ایک عہد ساز شخصیت سے ہم محروم ہو گئے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانیت ایک عظیم نقصان سے دوچار ہوئی ہے۔ (عامر ندیم، پاکستان)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page