https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۰
روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے سالم فاروق ندوی ، مظفر نگر ، یوپی مولاناوحیدالدین خان جو مختلف زبانوں میں متعدد کتابوں کے مصنف اور موجودہ دور میں تحقیقی دنیا کے ایک بڑے امام سمجھے جاتے ہیں ، 21 اپریل 2021 کو اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ آپ کی ولادت یکم جنوری ، 1925ء کو بڈھر یا اعظم گڑھ میں ہوئی، اور مدرسہ الاصلاح اعظم گڑھ میں آپ نے تعلیم حاصل کرکے فراغت حاصل کی۔
مولانامرحوم ہندوستان کے لیے عزت کا تاج اور عالم اسلامی کے دانشور طبقہ کے لیے ایک بہترین راہنما اور کامیاب مفکر تھے ۔ آپ کی زندگی سیرت وسنت اور احیائے امت کے لیے گویا وقف رہی ، آپ کی اکثر کتابیں فکری وشعوری انقلاب پیدا کرنے والی تحریروں اور تقاریر پر مشتمل ہیں ، آپ کے اکثر پروگرام بھی احیائے اسلام اور حقانیت اسلام کے ہی تحت ہوتے تھے ، آپ کی زندگی کا ایک بڑا مقصد دعوت و تبلیغ رہا ، بالخصوص برادران وطن میں آپ کے دعوتی جذبات قدر کی نگاہوں سے دیکھے جانے کے قابل ہیں ، آپ کا مشن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا ، نیز اسلام کے تعلق سے برادران وطن کے ذہنوں میں جو غلط فہمیاں اور غلط تصویریں ہیں ان کا ازالہ کرنا تو آپ کا اولین مقصد رہا ہے ، اسی کے تحت آپ نے ’’ عظمت اسلام‘‘ ، ’’ دعوت اسلام ‘‘ ، ’’ دین انسانیت‘‘ اور ’’ دین کامل‘‘ کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ آپ کے کار ہائے نمایاں میں سب سے بڑا کارنامہ دین کی سیاسی تعبیر پر معتدلانہ اور منصفانہ تنقید ہے جس میں مصنف کی علمی عبقریت کو سلامت رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کی علمی سطح پر گرفت کی ہے ، اور نہ صرف یہ کہ تنقید پر بس کیا بلکہ اس کا بدل پیش کیا اور اس موضوع پر مستقل ایک محققانہ کتاب ’’ تعبیر کی غلطی‘‘ بھی تصنیف فرمائی ہے۔
اردو زبان میں مذهبیات کو ایک عصری اسلوب دیا۔ مثلاً مذهبیات کو روزمرہ کی آسان زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں پر دین کی حقیقت واضح کی جائے، معرفت الہی سے ان کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues