Al-Risala · August 2021 · page 195

مالک اشتر، نئی دہلی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۵

جائیں کہ وہاں نقصان ہی نقصان ہے ۔ بہت سے لوگ تو اس ہدایت پر سچے دل سے عمل پیرا رہے لیکن ان حلقوں میں ہی کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے تو کچھ نہ تھے لیکن ان کے بھی دلوں میں تذبذب کی وہی آگ جل رہی تھی۔ ایسے افراد بھی خاموشی سے نئی روایت کی طرف بڑھ گئے۔

مولانا وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے والے تمام اسکالروں کو آپ جتنا چاہیں برا بھلا کہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ نہ جانے کتنے افراد کو تذبذب کے عذاب سے نکالنے میں ان بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کہ انہوں نے ایک خلقت کو یہ باور کرا دیا کہ دنیا کیسی ہی ترقی کرلے تب بھی مذہب کی معنویت باقی رہتی ہے۔ میرے مشاہدے میں مولانا وحید الدین خان اور جاوید غامدی جیسے افراد کی مذہبی فکر بہت سے لوگوں کے لیے ان ستونوں کی طرح ہیں جنہیں ہٹا دیا جائے تو رائج مذہبی بیانیہ سے متعلق شبہات کی چھت مکینوں کے سروں پر آ پڑے گی۔ اس لیے ان ستونوں کی بناوٹ میں کوتاہیوں کے امکان کے باوجو دان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا وحید الدین خان کی مذہبی تعبیرات کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں مذہب کی اصولی حیثیت بہر حال نمایاں ہے۔ مذہب کی تفہیم کرتے وقت وہ دین کے دائرے میں کھڑے ہو کر استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جدید دنیا سے ہم آہنگی کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں اور اس راہ میں ہر سنگ میل پر یہ یاد دہانی بھی لکھتے جاتے ہیں کہ انسان کی حتمی منزل کچھ اور ہے۔ مولانا کے سیاسی نظریات پر تنقید کا سب کو حق ہے لیکن ان کو بنیاد بنا کر مولانا کی پوری ریاضت کو ٹکے ٹوکری کر دینا انصاف نہیں۔ نظریاتی اختلاف تو بہت جگہوں پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی فکری شکم سے نکلی دو تنظیمیں سیکولرزم کے بارے میں دو بالکل مختلف نظریے رکھتی ہیں۔ ہماری طرف والی تنظیم کو سیکولرزم بہت عزیز ہے جب کہ سرحد پار والی کو سیکولرزم سخت نقصان دہ لگتا ہے۔ جس طرح ان نظریاتی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہاں یا وہاں والی تنظیم کی گمراہی کا حکم لگانا زیادتی ہے، ویسے ہی مولانا کے سیاسی نظریات کو وجہ بتا کر ان کی تمام کارگزاریوں کی تکذیب بھی ایمانداری کے خلاف ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page