Al-Risala · August 2021 · page 196

مالک اشتر، نئی دہلی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۶

خاکسارانہ خودداری کا رول ماڈل صہیب سلیم رومی، ضلع لوئر دیر تیمرگرہ علم ہو اور ساتھ میں خاکسارانہ بے نیازی تو تینوں کی مجسم شکل مولانا وحید الدین خان ہوتے ہیں۔ مولانا کی علمیت اور تفضل کی شاہد ان کی کتابیں، اقوال، رسائل، خطوط اور ڈائر یز تو ہیں ہی، ان کی خاکساری اور بے نیازی ملاقات کا شرف حاصل کرنے اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہونے والوں کے نقل کردہ واقعات سے عیاں ہے۔

دنیا جہان کے لوگوں سے ایسے پر خلوص شفقت سے ملتے جیسے ایک سراپا محبت روحانی والد سے توقع کی جاسکتی ہے۔ مخالفین، ذاتی حملے کرنے، کردار کشی کرنے والے ایک عرصے کے بعد خودان کے مرید بن جاتے۔ دیوبندیوں نے خلاف لکھا، جماعت اسلامی والوں نے ان کے خلاف مہم چلائی۔ کچھ لوگ مولانا کی ذاتی کردار کشی پر اتر آئے۔ مولانا نے سب نظر انداز کر دیا، خاموش رہے اور معاف کر دیا۔ بالآخر سب لوگ خاموش ہو گئے۔ مولانا کے زبان و قلم سے ایک حرف ملامت نہ نکلا۔ مولانا کی یہی پر وقار خاموشی اور عدم رد عمل ان کی سب سے بڑی فتح تھی۔ علماء کے طعنے، فتوے اور ذاتی حملے آج کسی کو بھی یاد نہیں۔ جب کہ مولانا علم و فضل کی تاریخ میں کل اور آج بھی زندہ ہیں اور تا دیر زندہ رہیں گے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے پاکستان کے ایک مفتی صاحب ایک دفعہ اسلام آباد سے دہلی مولانا وحید الدین کے دفتر ان سے ملاقات کے لیے گئے۔ ان دنوں اسرائیل و قادیانیت کے بارے مولانا کے افکار و خیالات نے مسلمانوں کے درمیان ایک طوفان بپا کر رکھا تھا۔ محترم پاکستانی مفتی صاحب، مولانا کے ان دونوں نکات پر مولانا کی اصلاح کے لیے انتہائی پر جوش و پر عزم تھے۔ مولانا سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو مفتی صاحب نے کہا کہ میں فلاں مفتی، پاکستان سے آیا ہوں۔ میری مدعائے ملاقات یہ ہے کہ آپ سے دو باتوں پر مناظرہ کروں۔ ایک یہ کہ آپ اسرائیل کے وجود کو درست تسلیم کرتے ہیں اور دوئم یہ کہ آپ قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں۔ مولانا نے جواب دیا:

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page