Al-Risala · August 2021 · page 197

مالک اشتر، نئی دہلی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۷

میں نے سوچ سمجھ کر اپنی تحریروں کا ایک موقف اپنایا ہے۔ اسی پر میں لکھتا ہوں: (1) معرفت اور دعوت میرے بنیادی موضوع ہیں۔ (2) شخصی مدح و قدح سے مکمل اجتناب کرنا۔ (3) بعض موضوعات پر ایک مرتبہ کچھ لکھ چکا ہوں تو اس کو پھر سے دہراتا نہیں ہوں ۔ گویا وہ میری ایک علمی توجیہہ یا میری علمی رائے کی حد تک ہو گئی۔ اس طرح بات ختم ہوگئی۔ دوسرا واقعہ لیبیا میں پیش آیا۔ لیبیا کی، مرد آہن اور آمر کرنل قذافی اپنی شہرت، طاقت اور مقبولیت کے عروج پر تھے۔ دنیا جہان کے معروف سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات کو لیبیا بلاتے اور ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ صاحبانِ علم و قلم سے قصیدے لکھواتے اور بدلے میں انعام واکራም کی بارش سے نوازتے۔ پاکستان کے ایک معروف مذہبی سیاسی قائد بھی، مسلکی فرق کے باوجود، ان کے مستقل وظیفہ خوار رہے۔

1989ء کی بات ہے، کرنل قذافی نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلمان علماء کی ایک کانفرنس منعقد کی جس میں اسلامی دنیا کے 300 علماء بشمول مولانا وحیدالدین بھی مدعو تھے۔ کانفرنس کے دوران ایک صاحب کی تقریر جاری تھی۔ اسی اثناء میں قذافی کا نفرنس ہال میں داخل ہوئے تو کانفرنس میں موجود سب علماء و شرکاء اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے لیکن ایک شخص اپنی نشست پر متانت سے بیٹھا رہا۔ یہ انڈیا سے آئے ہوئے مولانا وحیدالدین خان تھے۔ کانفرنس کے تیسرے روز قذافی نے علماء کے لیے عشائیہ کا خصوصی پروگرام بنایا، مگر مولانا نے اس میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ یہ واقعہ خود مولانا کی زبانی سنیے۔ مولانا نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ ستمبر 1989 کے آخری ہفتے میں لیبیا میں انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ مختلف ملکوں کے کئی سو آدمی وہاں آئے۔ میں بھی شریک ہوا۔ ہم لوگ طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرائے گئے تھے۔ اس کے بعد تمام لوگ اسپیشل جہاز کے ذریعہ بن غازی لے جائے گئے تاکہ وہاں کرنل قذافی سے ملاقات کر سکیں۔ تمام شرکاء خوشی خوشی وہاں گئے۔ میں اکیلا طرابلس کے ہوٹل میں ٹھہرارہا۔ میں اکیلا قذافی سے ملنے نہیں گیا۔ اپنے اس استغنا کی وجہ سے 500 ڈالر کھو دیے ۔ (ڈائری 24 فروری، 1990) https://sanurdu.com/featured/8890/

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page