Al-Risala · August 2021 · page 198

مالک اشتر، نئی دہلی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۸

مولانا وحید الدین خان میری نظر میں ناصر منصور قریب دو ہفتوں سے مرحوم کی صحت مسلسل گرتی جارہی تھی، اور 21 اپریل 2021 کو جان عزیز کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم کا میں نے ظاہری طور پر دیدار نہیں کیا تھا لیکن ملاقات کی جو خواہش تھی وہ پوری نہ ہوسکی۔ وفات باحسرت کی خبر سن کر یقین جانو، میں ششدر اور خوف زدہ ہوگیا کہ کیا واقعی مولانا اللہ کو پیارے ہوگئے، جن کی کتابوں کا مطالعہ میں دس سالوں سے بلا فصل کرتا آرہا ہوں اور یہ کہ ان کی وفات کے وقت بھی انہی کی کتاب سفرحیات کا مطالعہ جاری تھا۔ کتنی حیرت انگیز اور جبری الارم ہے موت، بغیر کسی رعایت کام تمام کرتی ہے۔ مرحوم کی کتابوں کے مطالعہ کرنے سے پہلے علم کی دنیا میں میری حیثیت ایک ادنیٰ سے طالب علم کی بھی نہ تھی۔ آج دو حرف لکھنے کی صلاحیت اور اس کی تحریک مولانا مرحوم کی بالواسطہ دین ہے۔ کچھ چند جزوی مسائل کے اختلاف کے باوجود میری نظر ہمیشہ خان صاحب کے بیشتر مثبت اور اہل سنت کے موافق مسائل پر جاتی رہی۔ اس سے ہوا یہ کہ میرے ذہن نے منفی سوچ کو مثبت میں تبدیل کرنے کا آرٹ سیکھا، جو میری ذاتی زندگی میں خوب نمایاں ہے اور یہی روش تمام مکاتب فکر کے مطالعہ میں رہی۔ بہر کیف مولانا وحید الدین خان مرحوم ایک بلند مرتبت کے حامل متعدد خصوصیات کے پیکر تھے۔ عالم اسلام کے ایک عظیم مفکر ہونے کے ساتھ ہی ایک عمدہ آئیڈیالوجسٹ، سائنٹفک تھنکر اور دعوتی میدان کے ایک داعی تھے، جس نے اپنے آخری وقت تک یہ سلسلہ نہ تھمنے دیا۔ مولانا مرحوم مختلف مکاتب فکر کے یہاں متنازعہ شخصیت کہلاتے ہیں۔ چند تفردات کی وجہ سے بعض علماء ان کی تنقید میں کئی کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں اور کئی لوگوں نے بدترین قسم کی تنقیص بھی کی، جو حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ بعض حضرات نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کا مسیح مہدی ہونے کا دعویٰ ہے۔ مگر انھوں نے اپنی بات کسی ٹھوس دلیل کے بغیر کہی ہے۔ یہ ایک بدترین قسم کا الزام ہے۔ اسی طرح کا الزام مولانا زکریا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page