الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۷
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۷
کی آزادی یہ ہے کہ آپ رات کے آخری حصے میں اذان دیں۔ میری آزادی یہ ہے کہ میں اس وقت اچھی نیند حاصل کروں:
Your freedom is to call Azan in the late hours of the night. My freedom is to have a good sleep at that time. اس طرح کے واقعات کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور جدید انسان میں ٹکراؤ پیدا ہو گیا ہے، اور چونکہ جدید انسان طاقتور ہے۔ اس لیے اب اسلام کو باقی رکھنے کی شکل صرف یہ ہے کہ اسلام کو میدان سے ہٹا دیا جائے۔ حالاں کہ یہ قیاس سراسر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ٹکراؤ پیدا ہوا ہے، وہ جدید انسان اور لاؤڈ اسپیکر کے درمیان ہے، نہ کہ جدید انسان اور اسلام کے درمیان۔ 1984 میں سابق وزیر اعظم ہند، مسز اندرا گاندھی (پیدائش 1917) کے حکم کے تحت امرتسر میں واقع سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ ہر مندر صاحب (گولڈن ٹیمپل) میں فوجی کارروائی کی گئی۔ اس فوجی کارروائی کو آپریشن بلو اسٹار (Operation Blue Star) کہا جاتا ہے۔ سکھوں کے نزدیک یہ ان کے مقدس مقام کی بے حرمتی کے ہم معنی تھا۔ چنانچہ سکھوں کا طبقہ ان سے ناراض ہو گیا۔ یہاں تک کہ کچھ انتہا پسند سکھوں نے انھیں 31 اکتوبر 1984 کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی ریڈیو نے کہا تھا:
(The assasination of Mrs Indira Gandhi by Sikh youths) has effectively nullified Maneka Gandhi as a political force. Moreover, this murder has triggered of "a wave of sympathy" in favour of Rajiv Gandhi. مسز گاندھی کے قتل نے مینکا گاندھی کو بحیثیت سیاسی طاقت کے بالکل ختم کر دیا۔ مزید یہ کہ اس کے بعد راجیو گاندھی کے حق میں ہمدردی کی زبردست لہر پیدا ہو گئی ہے۔ جن لوگوں نے مسز اندرا گاندھی کو قتل کیا تھا انھوں نے بطور خود یہ سمجھا تھا کہ وہ اندرا فیملی کو سیاست کے میدان سے ہٹا رہے ہیں۔ مگر اسی قتل کے بعد اندرا فیملی مزید طاقت کے ساتھ سیاست کے میدان میں واپس آگئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues