بابا چلے گئے
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰۰
مدنی دور مکی دور پر امن دعوت کا دور ۔ اس کے مقابلے میں مدنی دور کو جہاد اور قتال کا دور سمجھا جاتا ہے اور یہ دونوں ادوار بلاشبہ اسلام میں مستند ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خان صاحب مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی سے مراد یہ لیتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کی جب آمد ہوگی، اور وہ جو ماڈل اپنائیں گے وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنایا ہوا ہی ماڈل ہوگا، نہ کہ کوئی خود ساختہ مسیحی ماڈل۔
بہر کیف مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے پیچھے قرآنی مشن کا ایک عظیم کام بالعموم تمام لوگوں پر اور بالخصوص اپنے پیروکاروں کے کندھوں پر چھوڑ کر چلے گئے ۔ خان صاحب کے مغفرت اور صدقۂ جاریہ کے لیے قرآنی مشن ایک صدقۂ عظیم کے برابر ہے۔ مختلف زبانوں میں قرآن شریف کی سب سے زیادہ تراجم کرنے والی سر فہرست دعوتی این جی او خان صاحب کا cps سنٹر ہے۔ یہی مشن خان صاحب کا آخری مشن ہے۔
بابا چلے گئے
کل رات سے دنیا بھر میں موجود ہم تمام دوستوں پر ایک رنج والم کی کیفیت طاری ہے۔ ہم میں سے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ خود کو دلاسا دیں یا ایک دوسرے کے غم خوار بنیں ۔ بابا ہمارے لیے کیا کچھ چھوڑ گئے ہیں؟ اُن کی علمی خدمات کیا ہیں؟ یہ کوئی ایک دن کا موضوع تو نہیں ہے کہ ابھی کے ابھی سارا قصہ لکھ دیا جائے ۔ دنیا بھر میں موجود سبھی دوستوں نے لکھنے کا آغاز کیا ہے اور یہ نہ ختم ہونے والی داستان بابا کے علمی کام کو ہر ایک تک پہنچانے کی صورت آب جاری و ساری رہے گی ان شاء اللہ ۔ بابا مدح سرائی سے منع کر گئے ہیں لیکن بابا سچ تو ہم میں سے ہر ایک لکھے گا۔ یہ سچ ہے بابا کہ آپ نے آخرت کی یاد دہانی کرانے، تزکیہ اور خدا کی معرفت کی راہ دکھانے میں اپنی تمام عمر لگادی۔ جبھی تو یہ آخری بات کس سرشاری میں کہہ گئے کہ میں بہت جلد اللہ تعالیٰ کا خوشی اور آنسوؤں سے استقبال کرنے والا ہوں‘‘ (ڈاکٹر اشفاق، کراچی)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues